حماد کاہلوں
ایس این این نیوز
ایک کال کے بعد موبائل بند
گروپ کیپٹن عاصم طارق کو گولی مارنے کے بعد مرکزی ملزم سعد عباسی نے صرف ایک کال کی اور فوراً اپنا موبائل فون بند کر دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق وہ سیدھا اسلام آباد کے علاقے غوری ٹاؤن پہنچا، جہاں اس نے موٹر سائیکل ایک گلی میں چھوڑ دی اور بائیکیا کے ذریعے اپنے دوست کے میڈیکل سٹور پہنچ گیا۔
شناخت چھپانے کی کوشش
میڈیکل سٹور پر ملزم نے اپنا بیگ رکھوایا اور فائرنگ میں استعمال ہونے والی پستول ایک الگ جگہ چھپا دی۔ اس کے بعد قریبی کپڑوں کی دکان سے شرٹ تبدیل کی تاکہ اپنی شناخت چھپا سکے۔
فیض آباد سے لاہور روانگی
اگلے مرحلے میں سعد عباسی فیض آباد بس اڈے پہنچا، جہاں سے اس نے لاہور کی ٹکٹ خریدی اور سفر شروع کر دیا۔
دوسری جانب پولیس تفتیشی ٹیم اس دوران ملزم کے دوست تک پہنچ چکی تھی۔
پولیس کو گمراہ کرنے کی حکمتِ عملی ناکام
پولیس کو دھوکہ دینے کے لیے سعد عباسی بھیرہ کے قریب بس سے اتر گیا اور واپس اسلام آباد کا رخ کیا، اس گمان میں کہ پولیس اسے لاہور میں تلاش کرتی رہے گی۔ عباسی تاہم یہی فیصلہ اس کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوا۔
اسلام آباد پہنچنے پر ملزم نے کسی اور کے موبائل سے دوبارہ اسی دوست کو کال کی اور کہا کہ وہ اپنا سامان لینے آ رہا ہے۔ تاہم پولیس پہلے ہی وہاں پہنچ چکی تھی۔
گرفتاری کیسے عمل میں آئی
خود سامنے آنے کے بجائے سعد عباسی نے ایک بچے کو بیگ لینے کے لیے بھیجا۔ جیسے ہی بچہ بیگ لے کر ملزم کے پاس پہنچا، پولیس نے گھیراؤ کر کے اسے گرفتار کر لیا۔
فرار کے دوران مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی سامنے آ چکی ہیں، جن سے ملزم کی مکمل فرار کی کہانی بے نقاب ہوئی ہے۔ پولیس تحقیقات جاری ہیں۔
عباسی، گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس ملزم، اسلام آباد پولیس گرفتاری