از اسامہ زاہد
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، جو فروری 2026 میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے، کا جنازہ تہران کے امام خمینی مصلیٰ میں ادا کیا گیا۔ لاکھوں افراد نے سیاہ لباس میں شرکت کی، “مرگ بر امریکہ” کے نعرے گونجے اور انتقام کی علامت سرخ جھنڈے لہراتے رہے۔
قرآنی آیات کے ذریعے سیاسی پیغامات
جنازہ کی سب سے چونکا دینے والی بات یہ رہی کہ ہر غیر ملکی وفد کی آمد پر الگ الگ قرآنی آیت تلاوت کی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب محض اتفاق نہیں بلکہ ایران کی طرف سے سوچا سمجھا سفارتی پیغام تھا۔
سعودی عرب کے وفد کی آمد پر غزوہ بدر والی آیت پڑھی گئی جس میں دو لشکروں کا ذکر ہے ایک اللہ کی راہ میں اور دوسرا کافر۔ سوشل میڈیا پر اس انتخاب کو انتہائی متنازعہ قرار دیا گیا۔
ترکیہ کے لیے وہ آیت پڑھی گئی جس میں جہاد کرنے والوں کو بیٹھنے والوں پر فضیلت دی گئی ہے جسے ترکیہ کی جنگ سے دوری کی طرف اشارہ سمجھا گیا۔
لبنانی حکومت کے لیے وہ آیت منتخب کی گئی جس میں قربانی سے انکار کا ذکر ہے حزب اللہ سے لبنانی حکومت کی دوری کا واضح پیغام۔
حزب اللہ کے وفد کی آمد پر ہمت اور استقامت کا پیغام دینے والی قرآنی آیت تلاوت کی گئی جس کا مفہوم یہ تھا کہ ایمان والے کبھی مغلوب نہیں ہوتے اور انہیں نہ کمزور پڑنا چاہیے نہ غمزدہ ہونا چاہیے۔
حماس کے لیے وہ آیت پڑھی گئی جس میں ان مومنوں کی تعریف ہے جنہوں نے اللہ سے کیا وعدہ پورا کیا “کچھ اپنا وعدہ پورا کر چکے، کچھ ابھی انتظار میں ہیں۔”
یمنی حوثیوں کے لیے وہ آیت تلاوت کی گئی جس میں لڑائی میں ثابت قدم رہنے والے مومنوں کی تعریف کی گئی ہے۔
قطر کے لیے اللہ کی رحمت اور معافی والی آیت پڑھی گئی جسے ثالثی کردار کی تعریف قرار دیا گیا۔
ٹرمپ کا طنزیہ اعلان واشنگٹن نے تہران کو تدفین کی مہلت کیوں دی؟
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماؤنٹ رشمور میں امریکہ کے 250ویں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے تہران کوامریکی انتظامیہ نے ایران کو سپریم لیڈر کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے سات دن کا وقت فراہم کیا۔
انہوں نے کہا: “ہم نے انہیں جنازہ کے لیے ایک ہفتہ دیا ہے کیونکہ ہم اچھے لوگ ہیں۔”
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران اب امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرنا چاہتا ہے اور کہا: “ہم نے ایک ہی دن میں وینزویلا کو شکست دی اور ایران کو بھی سخت نقصان پہنچایا۔ وہ بہت شدت سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔”
جنازہ میں کون آیا؟
جنازہ میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف، عراق کے صدر، افغانستان کے وزیرِ خارجہ اور حماس کا وفد شامل تھا۔ سعودی عرب نے بھی اپنا وفد بھیجا۔
پس منظر
آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے۔ ان کے ساتھ خاندان کے چار افراد بھی جاں بحق ہوئے۔ جنازہ میں ان سب کے تابوت رکھے گئے۔
خامنہ ای کے جنازہ میں شریک وفود کے ممالک میں