از اسامہ زاہد
پاکستان تحریک انصاف نے آزاد جموں و کشمیر میں موجودہ حالات میں انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ فیصلہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
بحران کا پس منظر
آزاد کشمیر اس وقت شدید سیاسی اور انسانی بحران سے گزر رہا ہے۔ راولاکوٹ سمیت متعدد علاقوں میں ہزاروں شہری اپنے جائز مطالبات کے لیے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔
حکومتی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ پنجاب سے آزاد کشمیر کو اشیائے خوردونوش کی ترسیل مکمل طور پر بند ہے جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
پی ٹی آئی کا موق
پاکستان تحریک انصاف نے واضح کیا کہ یہ کوئی سیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ کشمیری عوام کے ساتھ اصولی یکجہتی کا اظہار ہے۔ پارٹی کے بیان میں کہا گیا:
پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ پارٹی کی اولین ترجیح انتخابی کامیابی نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقوق کا تحفظ اور ان کے ساتھ ہر حال میں یکجہتی ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ اقدامات آزاد جموں و کشمیر کی آئینی، جمہوری اور سیاسی شناخت کو مجروح کر رہے ہیں۔ یہ طرز عمل پاکستان کی تاریخی کشمیر پالیسی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
انتخابات میں شرکت کی شرائط
پاکستان تحریک انصاف نے پانچ شرائط پیش کی ہیں جن کے پورا ہونے تک وہ انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنے گی:
- حالات معمول پر آئیں — تمام احتجاج اور بحران کا پرامن حل نکالا جائے
- سیاسی تحفظات دور ہوں — تمام سیاسی و عوامی قوتوں کے خدشات ختم کیے جائیں
- JAAC مطالبات حل ہوں — جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاملات افہام و تفہیم سے طے ہوں
- انتخابی شیڈول پر نظرثانی — موجودہ شیڈول تبدیل کیا جائے
- مساوی انتخابی ماحول تمام سیاسی جماعتوں کو آزادانہ انتخابی فضا فراہم کی جائے
- تحریک انصاف
ٹکٹوں کی تقسیم معطل
پارٹی نے مزید اعلان کیا کہ آزاد جموں و کشمیر پارلیمانی بورڈ کی جانب سے امیدواروں کو ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے تمام سفارشات فوری طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
ٹکٹوں کا اجرا اور انتخابی عمل سے متعلق تمام امور حالات معمول پر آنے تک مؤخر رہیں گے۔
جمہوری حقوق کا سوال
پاکستان تحریک انصاف نے نشاندہی کی کہ جب کشمیری عوام خود سڑکوں پر ہوں، سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہوں، قیادت کو گرفتار کیا جا رہا ہو اور میڈیا پر قدغنیں ہوں تو ایسے ماحول میں انتخابی عمل اپنی ساکھ اور معنویت کھو دیتا ہے۔
فن رائٹ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق آزاد، منصفانہ اور پرامن انتخابی ماحول ہر شہری کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں اور میڈیا پر پابندیاں بین الاقوامی جمہوری معیارات کے خلاف ہیں۔
نتیجہ
پاکستان تحریک انصاف کا یہ فیصلہ آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ تاہم پارٹی کا موقف ہے کہ جب تک کشمیری عوام کے لیے آزاد، منصفانہ اور پرامن سیاسی ماحول میسر نہیں آتا، پاکستان تحریک انصاف اس انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی نظریں اب آزاد کشمیر کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔
کشمیری خواتین کے جمہوری حقوق