عابدہ کاہلوں
ایس این این اردو
لاہور پولیس نے چار افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں محمد رضا ڈار بھی شامل ہیں، جنہیں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا نواسہ بتایا جا رہا ہے۔
ان پر دو غیر ملکی خواتین کے اغوا، اجتماعی زیادتی اور بھتہ خوری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
متاثرہ خواتین کون ہیں
شکایت کنندگان میں ایک ڈچ خاتون اور ایک وینزویلا کی شہری شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ڈچ خاتون کی شناخت اسٹیفنی ایڈریانا ماؤ-ارون کے نام سے کی گئی ہے، جبکہ وینزویلا کی خاتون کو بعض رپورٹس میں ایسٹرڈ رابنسن براچو کے نام سے شناخت کیا گیا ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا
ایف آئی آر کے مطابق، متاثرہ خواتین کی محمد رضا ڈار سے پہلی ملاقات اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ہوئی تھی۔ بعد ازاں انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی گئی، اور رضا ڈار نے مبینہ طور پر ان کے ویزوں کا انتظام کیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق خواتین اور رضا ڈار ایک کرپٹو کرنسی کاروبار میں شراکت دار بھی تھے۔
پولیس کے مطابق، خواتین 29 جون کو لاہور پہنچیں، جہاں انہیں مبینہ طور پر اغوا کر کے ڈیفنس کے وائی بلاک میں ایک مکان میں لے جایا گیا۔ الزام کے مطابق انہیں اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا گیا، نقدی چھینی گئی، جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
ایک متاثرہ خاتون کے والد نے، جو نیدرلینڈز میں مقیم تھے، ہنگامی ہیلپ لائن کے ذریعے پاکستانی حکام کو مطلع کیا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں خواتین کو بازیاب کروایا۔
گرفتاریاں اور قانونی کارروائی
ڈیفنس سی پولیس اسٹیشن میں پانچ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ محمد رضا ڈار، حسن رضا، سکندر خان اور ساجد علی کو گرفتار کر کے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا، جبکہ پانچواں ملزم تاحال مفرور ہے اور پولیس اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 365-اے (اغوا) اور 375-اے (اجتماعی زیادتی) کے تحت درج کیا گیا۔
ایک پولیس اہلکار کے مطابق، چونکہ یہ کیس نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے قریبی رشتہ دار سے متعلق ہے، اس لیے اسے تمام پہلوؤں سے حساسیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی اور عوامی ردعمل
اس ہائی پروفائل کیس نے پاکستان میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ ڈار خاندان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خاندان سے قریبی تعلقات بھی زیرِ بحث ہیں۔ سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبات سامنے آئے ہیں، خاص طور پر بااثر خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ملزمان کے خلاف کارروائی میں مساوی انصاف کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
“اسحاق ڈار کا خاندان طویل عرصے سے پاکستانی سیاست کا مرکزی حصہ رہا ہے، اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خاندان سے بھی ان کے قریبی رشتے ہیں۔”