google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

شہباز شریف تہران پہنچ گئے، خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت

ایس این این نیوز اردو

July 3, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از اسامہ زاہد

اسلام آباد/تہران: وزیراعظم محمد شہباز شریف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران پہنچ گئے۔ آیت اللہ خامنہ ای فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

دورے کی تفصیلات

سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک ایران اور ترکیہ کا دورہ کریں گے۔ پہلے مرحلے میں وہ تہران پہنچے جہاں انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت پر حاضری دی۔

سرکاری وفد میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، اور وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ عالمی خبررساں اداروں کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی وفد کا حصہ ہیں۔

پاکستان کا پیغامِ تعزیت

وزیراعظم نے پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور غم کی اس گھڑی میں ایرانی قوم کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

تدفین کی تقریبات اور عالمی شرکت

آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات 4 سے 9 جولائی تک تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہو رہی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، جو 1989 میں آیت اللہ خمینی کے جنازے کے بعد سب سے بڑا اجتماع ہو سکتا ہے۔

تقریبات میں چین کے اعلیٰ سطحی وفد کی سربراہی این پی سی کے نائب چیئرمین ہی وے، جبکہ روسی وفد کی قیادت دمتری میدویدیف کر رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے نائب وزیر خارجہ پبترا مارگیریٹا اور بہار کے گورنر سید عطا حسنین بھی شریک ہیں۔ افغان طالبان انتظامیہ نے اپنے وزیر خارجہ کو نمائندگی کے لیے بھیجا ہے۔

پاکستان کا کردار

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے قطر کے ساتھ ثالثی کے کردار میں شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران اور امریکہ کے مذاکرات جنازے کی تقریبات کے بعد دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات