google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

افغان خواتین کے فلاحی ادارے: فنڈز پر سوالات

ایس این این نیوز اردو

October 20, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

حماد کاہلوں،

اسکینڈینیوین نیوز ایجنسی

افغان خواتین کے فلاحی ادارے 2021 کے بعد کروڑوں ڈالر جمع کر چکے ہیں، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹھوس نتائج کم نظر آتے ہیں، ایس این این نیوز فن لینڈ کے ایک جائزے کے مطابق۔ جائزے میں ملالہ فنڈ سمیت 90 سے زائد ادارے شامل ہیں جو امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں رجسٹرڈ ہیں۔

جائزے کے مطابق عطیات کا بڑا حصہ چند ایسے اداروں کے پاس گیا جنہیں ان کے بانی چلا رہے ہیں۔ یہ جائزے کے نتائج ہیں جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، اور تحریر کے وقت کسی ادارے کا جواب شامل نہیں تھا۔

جائزے میں کیا سامنے آیا

جائزے کے مطابق فنڈنگ میں اضافہ افغانستان سے انخلا کی سرخیوں کے بعد ہوا، نہ کہ ٹھوس نتائج کے بعد۔ “ظاہر ہوتا ہے” جائزے کے اپنے محتاط الفاظ ہیں۔ نوٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نتائج کیسے ماپے گئے، کون سے سال شامل ہیں، اور “بڑا حصہ” کتنا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے بہت کم حاصل ہوا اور افغان لڑکیوں کی تعلیم پر رقم مؤثر طریقے سے خرچ نہیں ہوئی۔ ناقدین کے نام نہیں دیے گئے، اس لیے یہ ایک دلیل ہے، تحقیقی نتیجہ نہیں۔

ملالہ فنڈ کے بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔ رپورٹ کسی نامزد ادارے پر بدعنوانی کا مخصوص الزام بھی نہیں لگاتی۔

سولا اور ویمن فار افغان ویمن کے اعداد

جائزے کے مطابق سولا نے 2021 سے جون 2025 کے درمیان تقریباً 63 ملین ڈالر جمع کیے اور اب اس کے پاس 46.95 ملین ڈالر کے نیٹ اثاثے ہیں۔ نیٹ اثاثوں کا مطلب ادارے کی ملکیت منہا اس کے واجبات ہے۔ یہ حسابی پیمانہ ہے، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پروگراموں پر کتنا خرچ ہوا۔

ویمن فار افغان ویمن کی آمدنی 2021 میں بڑھ کر 20.95 ملین ڈالر ہوئی، پھر کم ہو کر 8.19 ملین ڈالر رہ گئی، جائزے کے مطابق۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ادارے کو مسلسل تین سال مالی نقصان ہوا۔ نقصان کی مقدار اور کمی کے سال نہیں بتائے گئے۔ ہنگامی عطیات کم ہونے پر آمدنی اکثر گھٹتی ہے، اس لیے کمی بذاتِ خود بدانتظامی کا ثبوت نہیں۔

افغان خواتین کے فلاحی اداروں کی جوابدہی

ایس این این نیوز فن لینڈ سوال اٹھاتا ہے کہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے نام پر کروڑوں ڈالر جمع کرنے والے اداروں کے مالی معاملات اور کارکردگی کی نگرانی کیسے ہوتی ہے۔ جائزے میں اس کا جواب نہیں دیا گیا۔ رجسٹرڈ خیراتی ادارے عموماً سالانہ رپورٹس یا ٹیکس گوشوارے شائع کرتے ہیں جنہیں قارئین دیکھ سکتے ہیں، لیکن جائزہ نہیں بتاتا کہ اس نے کون سی دستاویزات استعمال کیں۔

ملالہ یوسفزئی اور سولا کی بانی شبانہ بساج راسیخ کے درمیان فنڈ ریزنگ اور مالی شفافیت پر موازنے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ موازنہ کون کر رہا ہے اور کس بنیاد پر، اس لیے انہیں چہ میگوئیاں سمجھنا چاہیے، تحقیقی نتائج نہیں۔

اہم نکات

  • ایس این این نیوز فن لینڈ کا جائزہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے لیے رقم جمع کرنے والے 90 سے زائد اداروں پر مشتمل ہے
  • جائزے کے مطابق عطیات کا بڑا حصہ چند بانی چلانے والے اداروں کے پاس گیا
  • سولا نے 2021 سے جون 2025 تک تقریباً 63 ملین ڈالر جمع کیے اور اس کے نیٹ اثاثے 46.95 ملین ڈالر ہیں
  • ویمن فار افغان ویمن کی آمدنی 2021 میں 20.95 ملین ڈالر سے گر کر 8.19 ملین رہ گئی، اور تین سال کے نقصان کی اطلاع ہے
  • نتائج غیر تصدیق شدہ ہیں اور کسی ادارے کا جواب شامل نہیں
  • افغان خواتین

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

جائزہ کن اداروں پر مشتمل ہے؟
ملالہ فنڈ سمیت 90 سے زائد ادارے جو امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں رجسٹرڈ ہیں۔

عطیات کے بارے میں جائزہ کیا کہتا ہے؟
کہ بڑا حصہ چند بانی چلانے والے اداروں کے پاس گیا اور فنڈنگ انخلا کی سرخیوں کے بعد بڑھی۔

سولا کے اعداد کیا ہیں؟
2021 سے جون 2025 تک تقریباً 63 ملین ڈالر جمع ہوئے اور 46.95 ملین ڈالر نیٹ اثاثے ہیں۔

کیا جائزہ کسی پر بدعنوانی کا الزام لگاتا ہے؟
مواد میں کسی نامزد ادارے کے خلاف بدعنوانی کا مخصوص دعویٰ نہیں۔

کیا اداروں نے جواب دیا؟
کسی کا جواب شامل نہیں۔

اداروں کا مؤقف اور وسیع تر پس منظر

ایسے اداروں کے حامی عموماً کہتے ہیں کہ افغانستان میں ضرورت حقیقی ہے اور نتائج ماپنا مشکل ہے، خصوصاً اس لیے کہ طالبان کے دور میں 2021 سے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندیاں ہیں۔ یہ عمومی پس منظر اور بحث ہے، اس جائزے میں شامل کسی ادارے کا بیان نہیں۔

منصفانہ رپورٹنگ کے لیے سولا، ویمن فار افغان ویمن اور ملالہ فنڈ کا جواب ضروری ہے، جو شامل نہیں۔ قارئین کو اداروں کے مالی گوشواروں، ان کے بیانات اور جائزے کے مکمل طریقۂ کار کا انتظار کرنا چاہیے۔ نئی تصدیق شدہ معلومات آنے پر یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

افغان خواتین کے فلاحی اداروں، فنڈز کی شفافیت اور افغانستان میں خواتین تک انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق مزید خبریں پڑھنے کے لیے ایس این این نیوز فن لینڈ کی خصوصی کوریج ملاحظہ کریں۔