google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

پاکستان-افغانستان فضائی حملے: 22 ہلاک، دعوے متضاد

ایس این این نیوز اردو

October 2, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

تحریر: رفعت کوثر

سکینڈے نیوین نیوز ایجنسی

پاکستان افغانستان فضائی حملے میں 22 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں، پاکستانی حکام کے مطابق، جنہوں نے تصدیق کی کہ یہ حملے افغان سرزمین کے اندر مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف کیے گئے۔ تاہم افغان حکام اور اقوامِ متحدہ نے انہی حملوں میں شہری ہلاکتوں کی الگ سے اطلاع دی ہے، خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق۔

دونوں فریقین کے متضاد دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان-افغانستان سرحد پر پیش آنے والے واقعات کی آزادانہ تصدیق کرنا کتنا مشکل ہے۔ ابھی تک کسی غیر جانبدار ذریعے نے ہلاکتوں کی نوعیت یا تعداد کی تصدیق نہیں کی۔

پاکستان کا مؤقف

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد جنگجو تھے۔ پاکستان کی جانب سے یہ موقف باقاعدہ طور پر رائٹرز کو بتایا گیا ہے۔

اسلام آباد عرصے سے یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ سرحد پار سے کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسند افغان علاقوں میں پناہ لیتے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے ماضی میں بھی ایسی کارروائیوں کا دفاع “قومی سلامتی” کی بنیاد پر کیا ہے۔

افغان حکام اور اقوامِ متحدہ کا ردِعمل

دوسری جانب، افغان حکام نے ان حملوں میں شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے بھی اسی نوعیت کی رپورٹس موصول ہونے کی تصدیق کی، رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق۔ تاہم شہری ہلاکتوں کی مخصوص تعداد یا تفصیلات فی الحال واضح نہیں۔

یہ تضاد اس وسیع تر مسئلے کی عکاسی کرتا ہے جہاں سرحد پار فوجی کارروائیوں میں “جنگجو” اور “شہری” کی تعریف پر دونوں ممالک کے مؤقف اکثر ٹکراتے ہیں۔

اہم حقائق

  • پاکستانی حکام کے مطابق فضائی حملوں میں 22 جنگجو ہلاک ہوئے
  • افغان حکام اور اقوامِ متحدہ کے مطابق، حملوں میں شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
  • واقعے کی آزادانہ یا غیر جانبدار تصدیق تاحال دستیاب نہیں
  • یہ کارروائی پاکستان-افغانستان سرحدی علاقے میں مبینہ عسکریت پسند ٹھکانوں کے خلاف کی گئی
  • خبر رساں ادارہ رائٹرز نے دونوں طرف کے مؤقف رپورٹ کیے ہیں
  • فضائی حملے

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

پاکستان نے یہ حملے کیوں کیے؟
پاکستانی حکام کے مطابق، یہ کارروائی افغان سرزمین کے اندر مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف کی گئی۔

کتنے افراد ہلاک ہوئے؟
پاکستانی حکام کے مطابق 22 جنگجو ہلاک ہوئے۔ تاہم شہری ہلاکتوں کی تعداد تاحال غیر واضح ہے۔

افغان حکام کا کیا مؤقف ہے؟
افغان حکام نے انہی حملوں میں شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے، جسے اقوامِ متحدہ نے بھی نوٹ کیا۔

کیا کسی آزاد ذریعے نے واقعے کی تصدیق کی؟
فی الحال کسی غیر جانبدار ذریعے کی جانب سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔

یہ کشیدگی کتنی پرانی ہے؟
طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان-افغانستان سرحدی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

پس منظر: کشیدگی کی بڑھتی ہوئی لہر

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی نئی بات نہیں۔ کابل میں طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسلام آباد بارہا یہ شکایت کرتا رہا ہے کہ عسکریت پسند گروہ افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر حملے کر رہے ہیں۔ افغان حکام ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

ایسے فضائی حملے خطے میں سفارتی تعلقات پر براہِ راست اثرانداز ہوتے ہیں، اور عام طور پر دونوں ممالک کے درمیان سرکاری سطح پر احتجاج یا بیانات کا تبادلہ دیکھنے میں آتا ہے۔

پاکستان افغانستان فضائی حملے اور متضاد ہلاکتوں کے دعووں کے پس منظر میں خطے کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اہم توجہ کا مرکز ہے۔