مأرب میں یمنی حکومتی افواج نے حوثی باغیوں کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں، یمنی مسلح افواج کے میڈیا سینٹر کے مطابق۔ تیسرے ملٹری ریجن کے کمانڈر میجر جنرل منصور بن عبداللہ ثوابہ نے یہ بیان جاری کیا ہے۔
ثوابہ کے مطابق، سرکاری افواج مأرب گورنری میں اپنی عسکری پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی مہم اب صرف دفاعی نوعیت کی نہیں رہی، بلکہ اس کا مقصد حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کو واپس لینا بھی ہے۔
مأرب میں کارروائیوں کا پس منظر
مأرب گورنری برسوں سے یمن کی خانہ جنگی کا ایک اہم محاذ رہی ہے۔ یہ تیل و گیس کے ذخائر کی وجہ سے تزویراتی اعتبار سے اہم علاقہ سمجھا جاتا ہے، اور حکومتی افواج کے لیے اس کا دفاع طویل عرصے سے ترجیح رہا ہے۔
یمنی مسلح افواج کے میڈیا سینٹر کی رپورٹ کے مطابق، کمانڈر ثوابہ نے واضح کیا کہ افواج اس وقت تک اپنی مہم جاری رکھیں گی جب تک حوثیوں کے زیرِ تسلط علاقے آزاد نہیں کروائے جاتے اور ریاستی ادارے بحال نہیں کیے جاتے۔ تاہم، اس بیان کی آزاد ذرائع سے تصدیق فی الحال دستیاب نہیں۔
حوثی مؤقف اور صورتحال کا دوسرا رخ
حوثی گروہ، جو دارالحکومت صنعاء سمیت یمن کے وسیع شمالی علاقوں پر کنٹرول رکھتا ہے، ماضی میں بھی اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں سے دستبرداری کے دعووں کو مسترد کرتا رہا ہے۔ اس تازہ پیش رفت پر حوثی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل موجود نہیں۔ یمن کا تنازعہ کئی برسوں سے جاری ہے اور دونوں فریقین اکثر میدانِ جنگ کی صورتحال کے متضاد دعوے کرتے رہے ہیں، جن کی آزاد تصدیق مشکل ہوتی ہے۔
اہم نکات
- یمنی حکومتی افواج نے مأرب میں کارروائیاں تیز کرنے کا دعویٰ کیا
- بیان میجر جنرل منصور بن عبداللہ ثوابہ کی جانب سے جاری ہوا
- مقصد حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں اور ریاستی اداروں کی بحالی بتایا گیا
- حوثیوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا
- دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی دستیاب نہیں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
یہ بیان کس نے دیا؟
یمن کے تیسرے ملٹری ریجن کے کمانڈر میجر جنرل منصور بن عبداللہ ثوابہ نے یہ بیان دیا، جسے یمنی مسلح افواج کے میڈیا سینٹر نے نقل کیا۔
مأرب کیوں اہم ہے؟
مأرب یمن کی تیل و گیس دولت کا مرکز ہے اور برسوں سے خانہ جنگی کا ایک بڑا محاذ رہی ہے۔
کیا حوثیوں نے اس دعوے پر ردعمل دیا؟
فی الحال حوثی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل موجود نہیں ہے۔
کیا ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق کی گئی ہے؟
نہیں، یہ معلومات یمنی مسلح افواج کے میڈیا سینٹر سے حاصل کردہ ہیں اور آزاد تصدیق دستیاب نہیں۔
یمن کے تنازعے کا انسانی پہلو کیا ہے؟
اقوام متحدہ کے مطابق یمن دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، جس میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے UN OCHA یمن دیکھیں۔
علاقائی اور انسانی صورتحال پر اثرات
مأرب میں لڑائی کی شدت میں اضافہ عام شہریوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ یہ گورنری لاکھوں بے گھر افراد کی میزبانی کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن کا بحران دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں میں شمار ہوتا ہے، اور کسی بھی نئی عسکری کارروائی کے اثرات پہلے سے متاثرہ آبادی پر براہ راست پڑ سکتے ہیں۔
مأرب یمنی فوج کی حوثیوں کے خلاف کارروائیاں