google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

دہشت گردی نگل رہی پاکستان کی معیشت، سرمایہ کاری 34% کم

ایس این این نیوز اردو

September 24, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از قلم: اسامہ زاہد

سکینڈے نیویئن نیوز ایجنسی

پاکستان میں دہشت گردی اب صرف جانی نقصان کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ ملک کی معیشت کو بھی براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 34 فیصد کم ہو کر صرف 1.64 ارب ڈالر رہ گئی، جبکہ اسی عرصے میں دہشت گردی سے جڑی ہلاکتیں گزشتہ ایک دہائی کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں۔

دہشت گردی سے ہلاکتیں: ایک دہائی کی بلند ترین سطح کے قریب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے مطابق 2026 کے پہلے سات مہینوں (جنوری تا جولائی) میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں سے منسلک مجموعی ہلاکتیں 2,786 تک پہنچ گئیں۔ صرف جولائی سب سے مہلک مہینہ رہا، جس میں 606 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں، جن میں 112 سکیورٹی اہلکار شامل تھے — یہ جنوری 2023 کے بعد ایک ماہ میں سکیورٹی فورسز کی سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔

الگ سے، فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے 2026 میں اب تک ملک بھر میں 3,145 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ کیے، جن میں 819 افراد (جن میں 303 فوجی اہلکار شامل ہیں) جاں بحق ہوئے — یہ اعداد واقعات کی تعداد ہیں، ہلاکتوں کی نہیں، اس فرق کو واضح رکھنا ضروری ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ علاقے خیبر پختونخوا اور بلوچستان رہے، جہاں سکیورٹی بحران نے بڑے قومی معاشی منصوبوں کو بھی زد میں لے لیا ہے۔

سرمایہ کاری میں کمی: خدشات صرف دہشت گردی تک محدود نہیں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق مالی سال 2025-26 میں خالص ایف ڈی آئی 1.637 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے 2.48 ارب ڈالر کے مقابلے میں 34 فیصد کم ہے۔ جون 2026 میں تو خالص سرمایہ کاری محض 14 ملین ڈالر رہ گئی۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق کاروباری رہنما اس کمی کی ایک بڑی وجہ غیر مستحکم ٹیکس پالیسیوں کو بھی قرار دے رہے ہیں، نہ کہ صرف سکیورٹی صورتحال کو — اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سرمایہ کاری میں کمی کے پیچھے دہشت گردی کے ساتھ ساتھ کاروباری ماحول اور پالیسی عدم استحکام جیسے عوامل بھی کارفرما ہیں۔

اہم حقائق (Key Facts)

  • مالی سال 2025-26 میں ایف ڈی آئی 34 فیصد کم ہو کر 1.64 ارب ڈالر رہی (ایس بی پی)
  • جنوری تا جولائی 2026: دہشت گردی سے منسلک 2,786 ہلاکتیں (پی آئی سی ایس ایس)
  • جولائی 2026 سب سے مہلک مہینہ، 606 ہلاکتیں، بشمول 112 سکیورٹی اہلکار
  • ریکوڈک (9 ارب ڈالر) اور سیندک منصوبے سکیورٹی خدشات کے باعث دباؤ میں
  • حکومت نے دونوں منصوبوں کے لیے اضافی سکیورٹی کا اعلان کیا
  • دہشت گردی نگل رہی

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

سوال: پاکستان میں ایف ڈی آئی کتنی کم ہوئی؟
جواب: مالی سال 2025-26 میں خالص ایف ڈی آئی 34 فیصد کم ہو کر 1.637 ارب ڈالر رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال یہ 2.48 ارب ڈالر تھی (ایس بی پی ڈیٹا)۔

سوال: ریکوڈک منصوبہ کیا ہے؟
جواب: یہ بلوچستان میں واقع کاپر اور گولڈ کا 9 ارب ڈالر مالیت کا منصوبہ ہے جو کینیڈین کمپنی بیرک مائننگ چلاتی ہے۔

سوال: کیا سیندک مائن بند ہونے والی ہے؟
جواب: مائن کے منتظمین نے بندش کی رپورٹس کو مسترد کیا ہے، تاہم سکیورٹی خدشات پر حکومت سے اضافی تحفظ طلب کیا گیا۔

سوال: سب سے زیادہ متاثرہ علاقے کون سے ہیں؟
جواب: خیبر پختونخوا اور بلوچستان، جہاں دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی کارروائیاں سب سے زیادہ ہوئیں۔

سوال: کیا سرمایہ کاری میں کمی صرف دہشت گردی کی وجہ سے ہے؟
جواب: نہیں، رپورٹس کے مطابق ٹیکس پالیسیوں کا عدم استحکام اور کاروباری ماحول بھی اہم عوامل ہیں۔

ریکوڈک اور سیندک منصوبے دباؤ میں

بلوچستان میں 9 ارب ڈالر مالیت کا ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ منصوبہ، جو کینیڈین کمپنی بیرک مائننگ چلا رہی ہے، بگڑتی سکیورٹی صورتحال کے باعث سست روی کا شکار ہے۔ کمپنی نے منصوبے کا جائزہ مزید طول دے کر وسط 2027 تک بڑھا دیا ہے۔

اسی طرح، سیندک کاپر اینڈ گولڈ مائن — جو چینی سرکاری کمپنی چلاتی ہے اور 25 سال سے مسلسل فعال ہے — کے منتظمین نے حکومت کو خبردار کیا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث سپلائی روٹس متاثر ہو رہے ہیں، اگرچہ مائن کی انتظامیہ نے بندش کی کسی بھی رپورٹ کی تردید کی ہے۔ حکومت نے دونوں منصوبوں کے لیے اضافی سکیورٹی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دہشت گردی نگل رہی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور اثرات