google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

خیبرپختونخوا آڈٹ رپورٹ: اربوں روپے کے حسابات میں خامیاں

ایس این این نیوز اردو

November 3, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

تحریر: اسامہ زاہد

خیبرپختونخوا آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے سرکاری حسابات میں اربوں روپے کی خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں اخراجات، ترقیاتی فنڈز اور بیرونی قرضوں کے ریکارڈ میں مسائل بتائے گئے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ میں خامی کی نشاندہی کا مطلب ضروری نہیں کہ بدعنوانی ثابت ہو گئی ہو۔ عام طور پر اس کا مطلب ریکارڈ یا تصدیق میں کمی ہوتا ہے جس کی وضاحت متعلقہ محکمے سے طلب کی جاتی ہے۔ رپورٹ میں صوبائی حکومت کا جواب شامل نہیں، اور اعداد و شمار آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں۔

اخراجات اور بجٹ سے متعلق نشاندہیاں

رپورٹ کے مطابق 72 ارب 46 کروڑ روپے کے سرکاری اخراجات کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ تصدیق نہ ہونے کا مطلب ہے کہ آڈیٹرز کو درکار ثبوت یا ریکارڈ دستیاب نہیں ہوا۔

اس کے ساتھ رپورٹ میں کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی کے منظور شدہ بجٹ سے 104 ارب 26 کروڑ روپے زائد ایس اے پی سسٹم میں درج کیے گئے۔ ایس اے پی ایک مالی سافٹ ویئر ہے جس میں سرکاری حسابات کا اندراج کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں وجہ یا اس فرق کی وضاحت شامل نہیں۔

ترقیاتی فنڈز اور پبلک اکاؤنٹ

آڈٹ کے مطابق 153 ارب 68 کروڑ روپے کے ترقیاتی اخراجات غلط حساباتی مد میں ظاہر کیے گئے۔ یعنی رقم خرچ تو ہوئی، لیکن اسے غلط کھاتے میں درج کیا گیا، اور رپورٹ میں اسے رقم کے ضیاع کا ثبوت نہیں کہا گیا۔

پبلک اکاؤنٹ میں 39 ارب 58 کروڑ روپے کا منفی بیلنس بھی بتایا گیا، جس کا مطلب ہے کہ وصولیوں سے زیادہ ادائیگیاں ہوئیں۔ پبلک اکاؤنٹ سرکاری رقوم کا وہ کھاتہ ہے جس میں صوبے کی آمدن اور اخراجات کا حساب رکھا جاتا ہے۔

خیبرپختونخوا آڈٹ رپورٹ میں قرضوں کا ریکارڈ

رپورٹ کے مطابق 98 ارب 89 کروڑ روپے کے بیرونی قرضوں کا حساباتی ریکارڈ نامکمل ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی قرضوں اور سود کی مد میں 51 ارب 85 کروڑ روپے کی ادائیگیوں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

اندرونی قرضوں کا ریکارڈ 2017-18 کے بعد اپ ڈیٹ نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت سے لیے گئے قرضوں کا ریکارڈ 2013-14 کے بعد اپ ڈیٹ نہیں ہوا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ریکارڈ اپ ڈیٹ نہ کرنے کی ذمہ داری کس پر ہے۔

اہم نکات

  • آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں 72 ارب 46 کروڑ روپے کے اخراجات کی مکمل تصدیق نہ ہو سکی
  • ترقیاتی اخراجات میں بے ضابطگی: 153 ارب 68 کروڑ روپے غلط حساباتی مد میں درج ہونے کا انکشاف
  • پبلک اکاؤنٹ میں 39 ارب 58 کروڑ روپے کا منفی بیلنس بتایا گیا
  • بیرونی قرضوں کے 98 ارب 89 کروڑ روپے کا ریکارڈ نامکمل اور 51 ارب 85 کروڑ روپے کی ادائیگیوں کی تصدیق نہ ہو سکی
  • صوبائی حکومت کا جواب شامل نہیں؛ معلومات غیر تصدیق شدہ ہیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

آڈٹ رپورٹ میں کیا بتایا گیا ہے؟
کہ مالی سال 2024-25 کے اخراجات، ترقیاتی فنڈز اور قرضوں کے حسابات میں خامیاں پائی گئیں۔

کتنے اخراجات کی تصدیق نہیں ہو سکی؟
72 ارب 46 کروڑ روپے کی۔

کیا اس کا مطلب بدعنوانی ہے؟
رپورٹ میں اسے بدعنوانی نہیں کہا گیا؛ یہ حسابات اور ریکارڈ میں خامیوں کی نشاندہی ہے۔

قرضوں کے ریکارڈ کے بارے میں کیا کہا گیا؟
اندرونی قرضوں کا ریکارڈ 2017-18 اور وفاقی قرضوں کا 2013-14 کے بعد اپ ڈیٹ نہیں ہوا۔

کیا حکومت نے جواب دیا؟
اس رپورٹ میں حکومت کا کوئی جواب شامل نہیں۔

حکومت کا مؤقف اور ابھی کیا واضح نہیں

اس رپورٹ میں صوبائی حکومت، محکمہ خزانہ یا کسی سیاسی جماعت کا مؤقف شامل نہیں۔ آڈٹ رپورٹس پر عموماً حکومتیں ریکارڈ کی تصحیح یا وضاحت پیش کرتی ہیں، لیکن اس بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں۔

یہ بھی واضح نہیں کہ آڈٹ رپورٹ کس ادارے نے اور کب جاری کی، اور کیا اس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں غور ہوا ہے۔ قارئین کو اصل آڈٹ رپورٹ اور متعلقہ محکموں کے جواب کا انتظار کرنا چاہیے۔ نئی تصدیق شدہ معلومات آنے پر یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

سرکاری اخراجات، مالیاتی بے ضابطگیوں اور حکومتی آڈٹ سے متعلق مزید خبروں کے لیے SNN News کی تازہ ترین رپورٹس پڑھیں۔