google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

راولپنڈی: سول جج پر مبینہ تشدد، وکیل کے خلاف مقدمہ

ایس این این نیوز اردو

October 21, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

تحریر: اسامہ زاہد

اسکینڈینیوین نیوز ایجنسی

راولپنڈی جج پر تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے، رپورٹس کے مطابق۔ الزام ہے کہ سینئر وکیل اسلم خان نے سول جج ملک علی میراں کے چیمبر میں جا کر ان پر تشدد کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جج کے سر پر گلاس لگنے سے چوٹ آئی اور انہیں موقع پر طبی امداد دی گئی۔ یہ تفصیلات آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں، اور وکیل کا مؤقف رپورٹ میں شامل نہیں۔

الزام اور ایف آئی آر

پولیس اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچی۔ تھانہ سول لائن پولیس نے عدالتی عملے کی درخواست پر وکیل اسلم خان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔ ایف آئی آر وہ ابتدائی رپورٹ ہے جس کے ذریعے پولیس کسی جرم کی شکایت پر کارروائی شروع کرتی ہے۔

اسلم خان پر ابھی صرف الزام ہے۔ عدالت میں جرم ثابت ہونے تک وہ بے گناہ سمجھے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مقدمے میں کن دفعات کا اطلاق ہوا یا انہیں گرفتار کیا گیا یا نہیں۔

راولپنڈی جج پر تشدد کے بعد عدالتی ردعمل

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے سینئر جج جسٹس صداقت علی خان نے بھی رپورٹ مانگی ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان رپورٹس کی مدت کیا ہے اور کیا انکوائری کمیٹی بنائی گئی ہے۔

ضلع راولپنڈی کے سول اور فیملی ججز نے احتجاجاً قلم چھوڑ ہڑتال کر دی۔ تمام سول ججز زخمی جج کے چیمبر پہنچ گئے اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

ڈسٹرکٹ بار کی کوششیں

رپورٹس کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور سینئر وکلا راضی نامے کے لیے سرگرم رہے، تاہم یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔ یہ واضح نہیں کہ ناکامی کی وجہ کیا تھی یا دونوں فریقوں کا مؤقف کیا تھا۔

بار ایسوسی ایشن یا وکلا تنظیموں کا باضابطہ بیان رپورٹ میں شامل نہیں۔

اہم نکات

  • راولپنڈی میں وکیل اسلم خان پر سول جج ملک علی میراں کو چیمبر میں تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام
  • جج کے سر پر گلاس لگنے سے چوٹ آئی؛ موقع پر طبی امداد دی گئی
  • تھانہ سول لائن نے عدالتی عملے کی درخواست پر ایف آئی آر درج کی
  • ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور جسٹس صداقت علی خان نے رپورٹ طلب کی
  • سول و فیملی ججز کی قلم چھوڑ ہڑتال؛ راضی نامے کی کوششیں ناکام؛ وکیل کا مؤقف شامل نہیں
  • سول جج

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

الزام کیا ہے؟
کہ وکیل اسلم خان نے سول جج کو چیمبر میں تشدد کا نشانہ بنایا۔

کیا ایف آئی آر درج ہوئی؟
جی ہاں، تھانہ سول لائن میں عدالتی عملے کی درخواست پر۔

کس نے رپورٹ طلب کی؟
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان نے۔

ججز نے کیا ردعمل دیا؟
سول و فیملی ججز نے قلم چھوڑ ہڑتال کی اور زخمی جج سے یکجہتی کی۔

کیا وکیل کا مؤقف سامنے آیا؟
اس رپورٹ میں ان کا مؤقف شامل نہیں۔

دوسری جانب کا مؤقف اور ابھی کیا واضح نہیں

وکلا اور ججز کے درمیان تنازعات پر عام بحث میں ایک طرف عدالتی وقار اور تحفظ کی بات ہوتی ہے، دوسری طرف وکلا برادری اپنے مؤقف اور شکایات بیان کرتی ہے۔ یہ عمومی نکات ہیں اور اس رپورٹ کے کسی نامزد ذریعے سے منسوب نہیں۔

یہ واضح نہیں کہ واقعہ کب اور کس وجہ سے پیش آیا، جج کی حالت اب کیسی ہے، اور وکیل نے کیا مؤقف اپنایا۔ قارئین کو پولیس، عدالتی اور بار کے باضابطہ بیانات کا انتظار کرنا چاہیے۔ نئی تصدیق شدہ معلومات آنے پر یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

سول جج پر مبینہ تشدد اور وکیل کے خلاف درج مقدمے سے متعلق مزید تفصیلات اور تازہ قانونی خبروں کے لیے SNN News Finland کی کوریج پڑھیں۔