حماد کاہلوں
اسکینڈینیوین نیوز ایجنسی
ملالہ فنڈ مالی رپورٹ سے متعلق اعداد و شمار نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے نام پر جمع ہونے والی رقم کہاں خرچ ہوتی ہے۔ مصنف کے مطابق 2024–2025 کی مالی رپورٹس میں فنڈ کی آمدنی 16.48 ملین ڈالر اور اخراجات 23.34 ملین ڈالر درج ہیں، یعنی تقریباً 6.86 ملین ڈالر کا فرق۔
یہ اعداد و شمار مصنف نے رپورٹس سے اخذ کیے ہیں اور SNN اردو نے انہیں آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کیا۔ اس رپورٹ میں ملالہ فنڈ کا مؤقف شامل نہیں۔
ملالہ فنڈ مالی رپورٹ: اہم اعداد و شمار
مصنف کا کہنا ہے کہ فنڈ کے پاس 42.97 ملین ڈالر کے خالص اثاثے موجود ہیں، یعنی اثاثوں کی کل مالیت میں سے قرض اور دیگر واجبات منہا کرنے کے بعد باقی رہنے والی رقم۔ ان کے مطابق براہِ راست منصوبوں پر، جنہیں پروگرام اخراجات کہا جاتا ہے، 18.94 ملین ڈالر صرف ہوئے۔
بہت سی فلاحی تنظیمیں کسی سال آمدنی سے زیادہ خرچ کرتی ہیں اور فرق پچھلے برسوں کے جمع شدہ ذخائر سے پورا کرتی ہیں۔ رپورٹ سے یہ واضح نہیں کہ اس معاملے میں ایسا ہی ہوا یا نہیں۔ اس کے لیے اصل مالی گوشوارے اور فنڈ کی وضاحت درکار ہے۔
رپورٹ میں مالی سال کی صحیح تاریخیں بھی نہیں دی گئیں۔ اس لیے اعداد کو ایک ہی مالی سال کے گوشواروں سے ملانا ضروری ہے۔
ایگزیکٹو معاوضہ اور سفری اخراجات
مصنف کے مطابق فائلنگز میں چیف ایگزیکٹو کا معاوضہ تقریباً 372,000 ڈالر، چیف ایڈوائزر کا تقریباً 320,000 ڈالر اور چیف آپریٹنگ آفیسر کا تقریباً 241,000 ڈالر درج ہے۔ یہ اعداد بھی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں۔
مصنف نے یہ بھی کہا کہ ٹیکس فائلنگز میں افسران یا کلیدی ملازمین کے فرسٹ کلاس یا نجی سفر کا ذکر ہے۔ امریکی فلاحی اداروں کی فائلنگز میں عموماً ایسی معلومات ظاہر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم ظاہر کیا جانا خود کسی بے ضابطگی کا ثبوت نہیں، اور معاوضوں کی معقولیت جانچنے کے لیے اسی شعبے کی دوسری تنظیموں سے موازنہ ضروری ہے۔
ملالہ فنڈ مالی رپورٹ پر اٹھائے گئے سوالات
مصنف کے مطابق یہ جاننا چاہیے کہ 18.94 ملین ڈالر کے پروگرام اخراجات میں سے کتنا حصہ براہِ راست لڑکیوں اور مقامی تعلیمی تنظیموں تک پہنچتا ہے، اور کتنا تنخواہوں، کنسلٹنٹس، وکالت کی مہمات اور سفر پر جاتا ہے۔
مصنف یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ عطیہ دینے والے کن ناپے جانے کے قابل تعلیمی نتائج کو اپنے طور پر جانچ سکتے ہیں، اور یہ کہ 16.48 ملین ڈالر کی آمدنی کے باوجود فنڈ کے اخراجات 23 ملین ڈالر سے اوپر کیوں گئے۔ کئی تعلیمی اداروں کے اعلان کردہ مقاصد میں وکالت بھی شامل ہوتی ہے، اس لیے اس پر ہونے والے خرچ کو الگ دیکھنا چاہیے۔
عطیہ دہندگان کیسے جانچ کر سکتے ہیں
فلاحی اداروں سے حساب مانگنا جائز عوامی مطالبہ ہے، خاص طور پر جب وہ عطیات سے چلتے ہوں۔ عطیہ دہندگان سالانہ رپورٹس، آڈٹ شدہ گوشوارے اور ٹیکس فائلنگز خود دیکھ سکتے ہیں، جو عموماً ادارے کی ویب سائٹ یا سرکاری ریکارڈ میں دستیاب ہوتی ہیں۔
دوسری طرف، صرف آمدنی، اخراجات اور تنخواہوں کے اعداد دیکھ کر یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ رقم کا غلط استعمال ہوا۔ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے اخراجات کی پوری تفصیل اور ادارے کا اپنا مؤقف درکار ہے۔ مصنف کی رائے میں فلاحی ادارے کی پہچان اس کا مقصد ہونا چاہیے، اس سے جڑی کوئی مشہور شخصیت نہیں۔
اہم نکات
- مصنف کے مطابق 2024–2025 میں آمدنی 16.48 ملین اور اخراجات 23.34 ملین ڈالر رہے
- مصنف کے مطابق خالص اثاثے 42.97 ملین ڈالر ہیں، جبکہ پروگرام پر 18.94 ملین ڈالر خرچ ہوئے۔
- تین اعلیٰ عہدیداروں کا معاوضہ تقریباً 241,000 سے 372,000 ڈالر کے درمیان بتایا گیا
- مصنف نے پروگرام اخراجات کی تفصیل اور قابلِ پیمائش نتائج کا مطالبہ کیا
- تمام اعداد غیر تصدیق شدہ ہیں اور فنڈ کا مؤقف شامل نہیں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
مصنف نے آمدنی اور اخراجات کے بارے میں کیا کہا؟
ان کے مطابق آمدنی 16.48 ملین اور اخراجات 23.34 ملین ڈالر تھے، یعنی تقریباً 6.86 ملین ڈالر کا فرق۔
کیا اس فرق کا مطلب رقم کا غلط استعمال ہے؟
نہیں۔ یہ فرق پچھلے ذخائر سے بھی پورا ہو سکتا ہے، اور اس کا فیصلہ اصل گوشواروں اور فنڈ کی وضاحت سے ہو گا۔
خالص اثاثے کیا ہوتے ہیں؟
کل اثاثوں میں سے واجبات نکالنے کے بعد بچنے والی رقم۔
کیا یہ اعداد تصدیق شدہ ہیں؟
نہیں، SNN اردو نے انہیں آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کیا۔
کیا ملالہ فنڈ نے جواب دیا ہے؟
اس رپورٹ میں فنڈ کا کوئی مؤقف شامل نہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
ملالہ فنڈ کی جانب سے وضاحت، آڈٹ شدہ رپورٹس میں اخراجات کی تفصیل اور آزاد جائزے اہم ہوں گے۔ قارئین کو چاہیے کہ اعداد و شمار اصل دستاویزات سے خود پرکھیں۔ فنڈ کا بیان آنے پر یہ رپورٹ اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
ملالہ فنڈ کی مالی رپورٹ اور فنڈز کے حسابات سے متعلق مزید تفصیلات کے لیے اسکینڈینیوین نیوز ایجنسی کی دیگر خبروں کا مطالعہ کریں۔