شمائلہ اسلم
ایس این این نیوز
پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے ایک افغان شہری نے حکومت سے ایسے جوڑوں کے لیے واضح اور خصوصی پالیسی بنانے کی اپیل کی ہے، جب اسے طورخم بارڈر کے راستے افغانستان واپس جانا پڑا۔ میڈیا سے بات چیت کے دوران وہ اپنی اہلیہ سے جدائی کے غم میں آبدیدہ ہو گیا۔
نام ظاہر نہ کرنے والے اس افغان شہری کے مطابق اس نے پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایک پاکستانی لڑکی سے شادی کر رکھی ہے، لیکن موجودہ پالیسی کے تحت اس کی اہلیہ پاکستان میں ہی رہ گئی جبکہ اسے سرحد پار جانا پڑا۔ اس کا یہ بیان اب تک آزاد ذرائع سے تصدیق طلب ہے، تاہم یہ صورتحال پاکستان میں افغان شہریوں کے خلاف جاری وسیع تر بے دخلی مہم کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
طورخم پر جذباتی منظر، اہلیہ سے جدائی کا دکھ
روتے ہوئے افغان شہری نے کہا کہ بیوی کو پیچھے چھوڑ کر جانا اس کے لیے نہایت تکلیف دہ لمحہ تھا۔ اس کا مطالبہ تھا کہ حکومت ایسے افغان شہریوں کے لیے، جنہوں نے قانونی طریقے سے پاکستانی خواتین سے شادیاں کیں، ایک واضح سہولت کا اعلان کرے تاکہ انہیں واپسی، سفری دستاویزات اور خاندان کے ساتھ رہائش جیسے معاملات میں مشکلات نہ اٹھانا پڑیں۔
اس کے بقول خاندانوں کی جدائی ایک انسانی مسئلہ ہے جسے حکومتی سطح پر حل کیا جانا چاہیے۔
افغان شہری پاکستانی شادی پالیسی: زمینی حقائق کیا کہتے ہیں؟
پاکستان میں غیر دستاویزی افغان شہریوں کی واپسی کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ایک سرکاری اہلکار کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں 26 لاکھ سے زائد طورخم بارڈر افغان شہریوں کو، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ملک بدر کیا جا چکا ہےصرف رواں سال یعنی 2026 میں اب تک ایک لاکھ 46 ہزار سے زائد افغان شہری بے دخل کیے جا چکے ہیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی
اس مہم کے دوران ایسے متعدد افغان شہری بھی متاثر ہوئے ہیں جن کی شادیاں پاکستانی خواتین سے ہوئیں۔ رپورٹس کے مطابق پاکستانی خواتین سے شادی شدہ افغان شہری قانونی الجھن کا شکار ہیں اور انہیں اپنے خاندانوں سے الگ ہو کر واپس افغانستان جانا پڑ رہا ہے
عدالتی مثالیں: POC کے معاملے پر ماضی کے فیصلے
اس نوعیت کے کیسز پشاور ہائیکورٹ میں بھی زیر سماعت رہے ہیں۔
عدالت نے پاکستانی خواتین سے شادی شدہ 40 افغان شہریوں کی ملک بدری روکتے ہوئے قرار دیا کہ نادرا کی جانب سے پاکستان اوریجن کارڈ (POC) سے متعلق فیصلہ ہونے تک، یا چھ ماہ کی مدت پوری ہونے تک، انہیں ملک بدر نہیں کیا جائے گادرخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ پاکستانی خواتین کےطورخم بارڈر افغان شوہر، جو پاکستانی بچوں کے والد بھی ہیں، آئین میں دیے گئے خاندانی زندگی کے حق کے تحت POC کے حقدار ہیں
تاہم ایسے تمام کیسز میں یکساں ریلیف نہیں ملتا، اور بہت سے جوڑے اب بھی قانونی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
اہم نکات
- طورخم بارڈر سے افغانستان جانے والے ایک افغان شہری نے پاکستانی اہلیہ سے جدائی پر حکومت سے خصوصی پالیسی کا مطالبہ کیا۔
- گزشتہ تین برسوں میں 26 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان سے ملک بدر ہو چکے ہیں۔
- صرف 2026 میں اب تک ایک لاکھ 46 ہزار سے زائد افغان شہریوں کی واپسی ہو چکی ہے۔
- پشاور ہائیکورٹ پاکستانی خواتین سے شادی شدہ افغان شہریوں کے کیسز میں POC کے فیصلے تک ملک بدری روک چکی ہے۔
- 10 جولائی 2026 سے بغیر ویزہ مقیم افغان شہریوں کی فوری گرفتاری کا حکم نافذ ہے۔
- طورخم بارڈر
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
یہ افغان شہری کہاں سے واپس بھیجا گیا؟ اسے طورخم بارڈر کے راستے افغانستان واپس جانا پڑا۔
اس نے حکومت سے کیا مطالبہ کیا؟ اس نے پاکستانی خواتین سے قانونی طور پر شادی شدہ افغان شہریوں کے لیے واضح اور خصوصی پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا۔
. کیا ایسے کیسز میں عدالتی ریلیف ممکن ہے؟ جی ہاں، پشاور ہائیکورٹ ماضی میں پاکستانی خواتین سے شادی شدہ افغان شہریوں کی ملک بدری POC کے فیصلے تک روک چکی ہے۔
اب تک کتنے افغان شہری ملک بدر ہو چکے ہیں؟ گزشتہ تین برسوں میں 26 لاکھ سے زائد، جبکہ صرف 2026 میں ایک لاکھ 46 ہزار سے زائد افغان شہری ملک بدر ہوئے ہیں۔
کیا حکومت کی کوئی الگ پالیسی مخلوط شادیوں کے لیے موجود ہے؟ تاحال ایسی کوئی مستقل یا الگ پالیسی سامنے نہیں آئی؛ متاثرہ خاندان عدالتوں یا نادرا سے انفرادی رجوع کر رہے ہیں۔
حکومتی مؤقف اور آگے کا لائحہ عمل
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق دس جولائی 2026 سے بغیر ویزے کے مقیم کسی بھی طورخم بارڈر شہری کو فوری گرفتار کیا جا سکتا ہے، جو غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے منصوبے کا حصہ ہے۔
حکومت کی جانب سے مخلوط شادی کے کیسز کے لیے تاحال کوئی الگ اور مستقل پالیسی سامنے نہیں آئی، اور متاثرہ خاندان انفرادی طور پر عدالتوں یا نادرا سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔
پاکستانی شہریت رکھنے والی خاتون سے ازدواجی رشتے میں منسلک ایک افغان مرد کو طورخم کے راستے سرحد عبور کرتے وقت اپنے گھر والوں سے الگ ہونا پڑا، جس پر اس نے حکام سے ایسے مخلوط جوڑوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ گفتگو کے دوران اس کے لہجے میں بیوی سے دوری کا دکھ نمایاں تھا۔