حماد کاہلوں
ایس این این نیوز
نامکمل پریس ریلیز کے بعد مکمل بریفنگ کا فیصلہ
لاہور پولیس نے ایک مقدمے ملزمان سے متعلق مکمل تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیے پریس کانفرنس کی، جس میں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بریفنگ دی۔
حکام کے مطابق چار ملزمان کی ابتدائی گرفتاری کے بعد جاری کی گئی مختصر پریس ریلیز میں مکمل حقائق شامل نہیں تھے، کیونکہ اس وقت چار دیگر ملزمان تاحال مفرور تھے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے بعد، جب مقدمہ مکمل تصور کیا گیا، تو سینئر کمانڈ سے اجازت لے کر عوام کے سامنے مکمل حقائق پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
فیصل کامران کے مطابق یہ اقدام اس لیے ضروری سمجھا گیا کیونکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پولیس کی کارکردگی سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔
بازیابی سے متعلق منفی تاثر کی سرکاری تردید
ڈی آئی جی آپریشنز نے میڈیا میں چلنے والی اس خبر کو مکمل طور پر غلط قرار دیا کہ پولیس لڑکیوں کو بازیاب کرانے میں ناکام رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک بڑے اخبار میں بھی یہی غلط خبر شائع ہوئی، جبکہ حقیقت میں پہلی کال موصول ہونے کے فوراً بعد پولیس نے فعال کارروائی شروع کر دی تھی، جس کے نتیجے میں لڑکیوں کی بازیابی ممکن ہوئی۔
قانونی خامیوں سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران دوسرا بڑا چیلنج یہ تھا کہ کیس میں کوئی ایسا قانونی خلا نہ چھوڑا جائے جس سے ملزمان کو فائدہ پہنچ سکے۔
فیصل کامران نے کہا کہ ٹیم نے خاص احتیاط برتی تاکہ مستقبل میں یہ الزام نہ لگے کہ کسی بااثر شخص کے رشتہ دار کو فائدہ پہنچانے کے لیے تفتیش میں سقم چھوڑا گیا۔ اسی احتیاط کے تحت ملزمان کا میڈیکل معائنہ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرایا گیا۔
بازیاب لڑکیوں کا پولیس کو شکریہ
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بازیاب لڑکیوں نے ایس پی اقبال ٹاؤن کو ایک پیغام بھیجا، جس میں ذہنی دباؤ (mental breakdown) کے دوران پولیس کے رویے اور تعاون کو سراہا گیا۔ حکام کے مطابق لڑکیوں نے پولیس کی تعریف کی اور رخصت ہوتے وقت انہیں ایک جھنڈا بھی پیش کیا۔
لاہور پولیس کی حالیہ کارروائیاں اور مقدمات کی تفصیلات