تحریر: اسامہ زاہد
لہڑی اور رئیسانی قبائل کے درمیان کوئٹہ میں دو ماہ کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اعلان لہڑی ہاؤس کوئٹہ میں اُس وقت سامنے آیا جب رئیسانی قبیلے کے نمائندوں نے قبائلی روایت کے مطابق بلوچی “میڑھ” لے کر لہڑی قبیلے سے رجوع کیا۔ منتظمین کے مطابق یہ اقدام دونوں قبائل کے درمیان برسوں سے چلی آ رہی کشیدگی کو کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
تنازعے کا پس منظر
شرکاء کے بیان کے مطابق، تقریباً تین سے چار سال قبل زمین کی ملکیت پر لہڑی اور رئیسانی قبائل کے درمیان تنازع پیدا ہوا تھا، جو بعد ازاں پرتشدد جھگڑے میں تبدیل ہو گیا۔
اس واقعے میں لہڑی قبیلے کے دو افراد جبکہ رئیسانی قبیلے کے ایک فرد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس نقصان کے بعد سے دونوں قبائل کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے، جس کی مکمل تفصیلات آزاد ذرائع سے فوری تصدیق کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔
میڑھ کی قدیم روایت، لہڑی ہاؤس میں خصوصی تقریب
بلوچی قبائلی ثقافت میں “میڑھ” ایک علامتی روایت ہے جو باضابطہ معافی اور صلح کی خواہش ظاہر کرنے کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ منتظمین کے مطابق رئیسانی قبیلے کے وفد نے یہ میڑھ لے کر لہڑی ہاؤس کوئٹہ کا رخ کیا، جہاں صوبائی وزیر میر لیاقت علی لہڑی اور نصیرآباد کے ضلعی چیئرمین حاجی میر فرید الحق لہڑی نے وفد کا استقبال کیا۔
بتایا گیا ہے کہ لہڑی قبیلے کی جانب سے میڑھ کو عزت و احترام کے ساتھ قبول کرتے ہوئے دو ماہ کی جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ یہ مدت مزید مذاکرات اور مستقل جرگے کے فیصلے تک برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، تاہم حتمی تصفیے سے متعلق تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
اہم نکات (Key Facts)
- لہڑی اور رئیسانی قبائل کے درمیان دو ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کوئٹہ میں لہڑی ہاؤس میں کیا گیا۔
- تین، چار سال پرانے زمینی تنازعے میں تین افراد جاں بحق ہوئے تھے (رپورٹ کے مطابق)۔
- رئیسانی قبیلے نے صلح کی روایتی علامت “بلوچی میڑھ” پیش کی۔
- صوبائی وزیر میر لیاقت علی لہڑی اور ضلعی چیئرمین حاجی میر فرید الحق لہڑی نے میڑھ قبول کی۔
- دونوں قبائل کے متعدد معززین اور عمائدین تقریب میں موجود تھے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
1. جنگ بندی کتنے عرصے کے لیے کی گئی ہے؟
دستیاب معلومات کے مطابق دو ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔
2. تنازع کی ابتدا کب اور کیوں ہوئی؟
شرکاء کے مطابق یہ تنازع تقریباً تین سے چار سال قبل زمین کی ملکیت پر پیدا ہوا تھا۔
3. “میڑھ” کیا ہوتی ہے؟
میڑھ بلوچی قبائلی روایت میں معافی اور صلح کی خواہش ظاہر کرنے کے لیے پیش کی جانے والی علامتی پیشکش ہے، جو عموماً جرگے یا مصالحتی عمل میں استعمال ہوتی ہے۔
4. تقریب میں کون سی اہم شخصیات شریک ہوئیں؟
صوبائی وزیر میر لیاقت علی لہڑی، ضلعی چیئرمین حاجی میر فرید الحق لہڑی سمیت دونوں قبائل کے متعدد معززین شریک ہوئے۔
5. کیا یہ صلح مستقل ہے؟
فی الحال اعلان کردہ جنگ بندی عارضی (دو ماہ کی) ہے۔ مستقل معاہدے سے متعلق کوئی باضابطہ تفصیل تاحال جاری نہیں کی گئی۔
تقریب میں شریک اہم شخصیات
منتظمین کے فراہم کردہ فہرست کے مطابق تقریب میں دونوں قبائل کے متعدد معززین اور عمائدین موجود تھے، جن میں سید بابا شاہ، ڈاکٹر ناشناس لہڑی، ملک سانول رئیسانی، میر احمد رئیسانی، گلستان رئیسانی، گل محمد رئیسانی، مولوی راز محمد حسنی، سعد اللہ لہڑی، رحیم بخش رئیسانی، رسول بخش رئیسانی اور عابد علی لہڑی شامل تھے۔
لہڑی رئیسانی قبائل جنگ بندی