حماد کہلون اسکینڈینیوین نیوز فن لینڈ
کہوٹہ، پنجاب، پاکستان کہوٹہ کے نواحی علاقے ہنیسر کے جنگلات میں لگنے والی آگ بجھانے کے دوران شدید جھلسنے والے راجہ اسجد جنجوعہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔
ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی پورے علاقے میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ذرائع کے مطابق راجہ اسجد جنجوعہ ہنیسر کے جنگلات میں بھڑکنے والی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک آگ کی لپیٹ میں آ گئے اور شدید جھلس گئے۔
مقامی افراد نے فوری طور پر انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ بعد ازاں ریسکیو اہلکاروں نے انہیں قریبی ہسپتال پہنچایا جہاں ان کا علاج شروع کیا گیا۔
طویل علاج کے باوجود جانبر نہ ہو سکے
راجہ اسجد جنجوعہ کئی روز تک ہسپتال میں زیرِ علاج رہے، تاہم آگ شدید جھلسنے کے باعث ان کی حالت تشویشناک رہی۔
طبی عملے کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ زندگی کی بازی نہ جیت سکے اور انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال پر اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور اہلِ علاقہ غم سے نڈھال ہو گئے۔
علاقے میں سوگ، عوام نے ہیرو قرار دے دیا
مقامی شہریوں اور سماجی شخصیات نے راجہ اسجد جنجوعہ کی جرات اور جذبۂ خدمت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ عوامی حلقوں نے کہا کہ انہوں نے جنگلات اور قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر انہیں ہیرو کا درجہ دیا جا رہا ہے اور ان کی قربانی کو سراہا جا رہا ہے۔
حکومت سے امداد اور اعزاز کا مطالبہ
اہلِ علاقہ اور سماجی حلقوں نے حکومتِ پنجاب اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مرحوم کی خدمات کا باقاعدہ اعتراف کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ خاندان کو سرکاری سطح پر مالی معاونت فراہم کی جائے اور راجہ اسجد جنجوعہ کو سرکاری اعزاز دیا جائے۔
کہوٹہ میں حالیہ جنگلاتی آگ کے واقعات مکمل رپورٹ