google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

سعودی-یمن کشیدگی میں اضافہ: نجران ایئرپورٹ رڈار تباہ

ایس این این نیوز اردو

August 7, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از حماد کہلوں

اسکینڈے نیوین نیوز ایجنسی

ریاض، سعودی عرب پچھلے دو دنوں کے دوران سعودی عرب اور یمن کے مابین فوجی صورتحال تیزی سے بگڑی ہے۔ حوثی جنگجوؤں نے اس عرصے میں تین مختلف محاذوں پر کارروائیاں کیں نجران میں سعودی ایئرپورٹ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا، بحیرہ احمر میں تیل بردار جہاز پر میزائل داغے، اور یمن کے وسطی و مشرقی علاقوں میں حکومتی فوج کے کیمپوں پر بمباری کی۔ ماہرین اسے 2022 کی جنگ بندی کے بعد دونوں فریقین کے درمیان اب تک کی سب سے شدید فوجی جھڑپ قرار دے رہے ہیں۔

سعودی-یمن کشیدگی: نجران ایئرپورٹ پر حملہ

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق، تنظیم کی افواج نے 4 اگست کو ڈرون کے ذریعے نجران ایئرپورٹ کے “حساس ہدف” کو نشانہ بنایا، جسے انہوں نے صعدہ اور حجہ صوبوں میں سعودی ڈرونز کی مبینہ فضائی حدود خلاف ورزی کا ردعمل قرار دیا۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے ذرائع کے مطابق، حملے سے ایئرپورٹ کا مرکزی رڈار سسٹم متاثر ہوا اور پروازیں معطل ہو گئیں۔

الجزیرہ نے سعودی زیرقیادت اتحاد کے حوالے سے 7 اگست کو رپورٹ دی کہ نجران پر جمعرات کے حملے میں ایک چار سالہ بچے سمیت 11 افراد زخمی ہوئے۔ سعودی حکام کی جانب سے اس حملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا۔

مارب اور حضرموت میں فوجی کیمپوں پر حملے

جمعرات کو حوثیوں نے مارب اور حضرموت صوبوں میں سرکاری افواج کے کیمپوں پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے یمنی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان حملوں میں کم از کم 30 فوجی ہلاک اور 50 زخمی ہوئے۔

تاہم ہلاکتوں کی تعداد پر اتفاق نہیں۔ الجزیرہ نے یمنی حکومتی ذرائع کے حوالے سے 30 ہلاکتوں اور 15 زخمیوں کی تصدیق کی، جبکہ اسرائیل نیشنل نیوز نے العربیہ اور الحدث کے حوالے سے 45 ہلاکتوں اور تقریباً 80 زخمیوں کی رپورٹ دی۔ حوثی رہنما یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں “سینکڑوں” سعودی حمایت یافتہ فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے، تاہم یہ دعویٰ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں۔

بحیرہ احمر میں ٹینکرز پر حملے

اسی ہفتے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں ایک سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے جہازوں کو باب المندب سے جنوب کی طرف موڑنے کے ردعمل میں کیا گیا، اور تنظیم نے شمالی بحیرہ احمر میں مزید سعودی ٹینکرز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے ان دعوؤں پر تاحال کوئی جوابی کارروائی یا باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اہم نکات

  • 4 اگست کو حوثی ڈرون حملے نے سعودی نجران ایئرپورٹ کا مرکزی رڈار متاثر کیا؛ الجزیرہ کے مطابق 11 افراد زخمی ہوئے۔
  • مارب اور حضرموت میں فوجی کیمپوں پر حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد ذرائع کے مطابق مختلف ہے: کم از کم 30 (سرکاری ذرائع) سے 45 (العربیہ/الحدث) تک۔
  • حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی ٹینکر پر حملے کا دعویٰ کیا اور مزید حملوں کی دھمکی دی۔
  • یہ حملے اپریل 2022 کی جنگ بندی کے بعد سب سے بڑی فوجی کشیدگی قرار دیے جا رہے ہیں۔
  • سعودی عرب کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ جوابی بیان یا کارروائی سامنے نہیں آئی۔
  • سعودی-یمن کشیدگی میں اضافہ

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

نجران ایئرپورٹ پر حملہ کب ہوا؟
حوثیوں نے 4 اگست 2026 کو ڈرون حملے کا دعویٰ کیا، جس سے ایئرپورٹ کا مرکزی رڈار متاثر ہوا۔

مارب اور حضرموت حملوں میں کتنے افراد ہلاک ہوئے؟
اعداد و شمار میں فرق ہے — سرکاری ذرائع کم از کم 30 ہلاکتیں بتاتے ہیں، جبکہ کچھ دیگر ذرائع 45 تک کا ذکر کرتے ہیں۔

کیا سعودی عرب نے جوابی کارروائی کی؟
تاحال کوئی باضابطہ جوابی بیان یا عسکری کارروائی سامنے نہیں آئی۔

یہ کشیدگی 2022 کی جنگ بندی سے کیسے مختلف ہے؟
یہ حملے اپریل 2022 کی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان اب تک کی سب سے بڑی فوجی کشیدگی سمجھے جا رہے ہیں۔

کیا یہ کہانی ابھی ترقی پذیر ہے؟
جی ہاں، یہ ایک develop ہوتی صورتحال ہے اور نئی تصدیق شدہ معلومات ملنے پر مضمون کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب مشرقی یمن سے اپنی افواج کی واپسی کے آثار دکھا رہا ہے، جسے ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔

یمن صورتحال ایک ترقی پذیر خبر ہے اور تصدیق شدہ معلومات ملنے پر اسے اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

یمن کی خانہ جنگی