از قلم: اسامہ زاہد
جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب جاری لانگ مارچ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات تک مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیر کے روز ملتان میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وزیراعظم نے ٹیلی فونک رابطے میں مارچ چند روز کے لیے روکنے کی درخواست کی تھی، جسے جماعت اسلامی نے قبول کر لیا ہے۔
جماعت اسلامی لانگ مارچ رکا، ختم نہیں ہوا
حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ مارچ مؤخر کرنے کا مطلب احتجاجی مہم ختم کرنا نہیں۔ ان کے بقول جماعت اسلامی دو ماہ سے سڑکوں پر بیٹھی ہے اور ضرورت پڑنے پر دس ماہ تک بھی بیٹھ سکتی ہے۔ ملک کے 42 شہروں میں جاری دھرنے مارچ مؤخر ہونے کے باوجود جاری رہیں گے، جبکہ کارکن ملتان میں اپنا پڑاؤ برقرار رکھیں گے۔
وزیراعظم سے کیا مطالبہ کیا گیا؟
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعظم جلد از جلد وطن واپس تشریف لائیں تاکہ ان سے براہ راست ملاقات کی جا سکے۔ ان کے مطابق پارٹی کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے ذریعے عوام کو ریلیف کی فراہمی ہے، اور حکومت سے اس ضمن میں تحریری یقین دہانی بھی طلب کی جائے گی۔
اہم نکات (Key Facts)
- جماعت اسلامی نے اسلام آباد لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک مؤخر کر دیا۔
- فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی ٹیلی فونک درخواست پر کیا گیا۔
- ملک کے 42 شہروں میں دھرنے بدستور جاری رہیں گے۔
- بنیادی مطالبہ: پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور عوام کو ریلیف کی فراہمی۔
- ریلیف نہ ملنے کی صورت میں مارچ اکتوبر میں دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ)
سوال: جماعت اسلامی نے لانگ مارچ کیوں مؤخر کیا؟
جواب: وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی درخواست پر، تاکہ حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے کا موقع دیا جا سکے۔
سوال: کیا احتجاج مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے؟
جواب: نہیں، ملک بھر میں 42 شہروں کے دھرنے جاری رہیں گے، صرف اسلام آباد کی جانب مارچ مؤخر ہوا ہے۔
سوال: مارچ دوبارہ کب شروع ہو سکتا ہے؟
جواب: حافظ نعیم الرحمان کے مطابق اگر ریلیف نہ ملا تو اکتوبر کے پہلے ہفتے یا عشرے میں مارچ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
سوال: جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ کیا ہے؟
جواب: پیٹرولیم لیوی ختم کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرنا۔
ریلیف نہ ملنے کی صورت میں کیا ہوگا؟
حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا کہ اگر حکومت کی جانب سے مناسب ریلیف نہ دیا گیا تو جماعت اسلامی اپنے احتجاجی لائحہ عمل پر نظرثانی کرے گی، اور مارچ دوبارہ شروع کرنے کے لیے اکتوبر کا پہلا ہفتہ اور عشرہ بطور آپشن موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارٹی کا ایجنڈا تصادم نہیں بلکہ عوامی مسائل کا حل ہے۔
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ مؤخر ہونے کی وجوہات