google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں احتجاج، فائرنگ کا واقعہ

ایس این این نیوز اردو

August 25, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

تحریر: اسامہ زاہد

سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں آج پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ویڈیو میں نظر آنے والے ایک آرمی افسر کے ساتھ موجود خاتون کی شناخت ڈاکٹر اینا عطا کے نام سے ہوئی ہے، جو یونیورسٹی انتظامیہ سے وابستہ ہیں۔

ڈاکٹر اینا عطا کے مطابق کچھ طلبہ و طالبات اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات کرنے پہنچیں تو انہیں طلبہ نے گھیر لیا، اور ان کے بقول یہ صورتحال مبینہ طور پر پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت پیدا کی گئی تھی۔

ڈاکٹر اینا عطا کا مؤقف

ڈاکٹر اینا عطا نے ایک ایچ او ڈی پر ہراساں کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے اس معاملے پر تھانہ ہمک میں ایف آئی آر بھی درج کروا دی ہے۔

تاہم ان الزامات کے حوالے سے متعلقہ ایچ او ڈی یا یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف اس فراہم کردہ مواد میں شامل نہیں ہے۔ اس لیے الزامات کو فی الحال ڈاکٹر اینا عطا کے بیان کے طور پر ہی پیش کیا جا رہا ہے۔

طلبہ کے احتجاج کے دوران صورتحال

ڈاکٹر اینا کے مطابق طلبہ و طالبات احتجاج کر رہے تھے اور اسی دوران وہ ان سے بات چیت کے لیے وہاں پہنچیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ طلبہ نے انہیں گھیر لیا، جس کے بعد انہوں نے اپنے شوہر کو اطلاع دینے کے لیے صورتحال سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر اینا کے بقول، کسی شخص نے ان کے شوہر کو فون کرکے بتایا کہ انہیں یونیورسٹی میں گھیر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان کے شوہر اس وقت اپنی ڈیوٹی پر جا رہے تھے، تاہم اطلاع ملنے کے بعد وہ فوری طور پر یونیورسٹی پہنچے۔

اہم نکات

  • واقعہ سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں پیش آنے کی اطلاع ہے۔
  • ڈاکٹر اینا عطا کے مطابق طلبہ و طالبات احتجاج کر رہے تھے۔
  • ڈاکٹر اینا نے ایک ایچ او ڈی پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
  • ان کے مطابق اس معاملے پر تھانہ ہمک میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔
  • فائرنگ کے واقعے سے متعلق مزید تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
  • سرحد یونیورسٹی

اکثر پوچھے گئے سوالات

سرحد یونیورسٹی میں کیا واقعہ پیش آیا؟
فراہم کردہ معلومات کے مطابق کیمپس میں طلبہ کا احتجاج ہوا، جس کے دوران ڈاکٹر اینا عطا کے مطابق انہیں طلبہ نے گھیر لیا اور بعد میں فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا۔

ڈاکٹر اینا عطا کون ہیں؟
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ڈاکٹر اینا عطا سرحد یونیورسٹی کی انتظامیہ سے وابستہ ہیں۔

کیا ہراساں کرنے کی ایف آئی آر درج ہوئی ہے؟
ڈاکٹر اینا عطا کا کہنا ہے کہ انہوں نے تھانہ ہمک میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ اس کی مزید تفصیلات کی تصدیق متعلقہ پولیس ریکارڈ سے ضروری ہے۔

کیا فائرنگ میں کوئی جانی نقصان ہوا؟
فراہم کردہ خام معلومات میں کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی تصدیق موجود نہیں ہے۔

کیا یونیورسٹی انتظامیہ یا طلبہ کا مؤقف سامنے آیا ہے؟
موجودہ معلومات میں ان کا تفصیلی مؤقف شامل نہیں، اس لیے ان کا ردعمل سامنے آنے کے بعد خبر کو مزید اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔

فائرنگ کے واقعے سے متعلق بیان

فائرنگ کے واقعے کے بارے میں ڈاکٹر اینا کا کہنا ہے کہ جب وہ طلبہ و طالبات کے درمیان گھری ہوئی تھیں تو ان کے شوہر کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ ان کے مطابق شوہر یونیورسٹی پہنچنے کے بعد انہیں وہاں سے دفتر یا متعلقہ بلاک کی جانب لے جا رہے تھے۔

فراہم کردہ خام معلومات میں فائرنگ کے مقام، فائرنگ کرنے والے شخص، ہتھیار، ممکنہ جانی نقصان یا پولیس کی کارروائی سے متعلق مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

مزید پاکستان، تعلیم اور طلبہ سے متعلق تازہ خبریں پڑھنے کے لیے ہماری متعلقہ نیوز کوریج ملاحظہ کریں۔