google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

وفاقی کابینہ کی یوتھ پالیسی کی منظوری، 4 اہم ستون طے

ایس این این نیوز اردو

August 23, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از اسامہ زاہد

نیشنل یوتھ پالیسی کو وفاقی کابینہ نے اصولی طور پر منظور کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا، جس کے بعد جاری اعلامیے میں تفصیلات بتائی گئیں۔

اعلامیے کے مطابق اس پالیسی کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ایک مربوط قومی فریم ورک تشکیل دینا ہے، تاکہ حکومتی سطح پر نوجوانوں کو مرکزی دھارے میں لایا جا سکے۔

نیشنل یوتھ پالیسی کے چار بنیادی ستون

سرکاری بیان کے مطابق اس فریم ورک کو چار بنیادی ستونوں پر استوار کیا گیا ہے: تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ان چاروں شعبوں کو مرکزی نکتہ بنا کر پالیسی کے خدوخال طے کیے گئے ہیں۔

اس پالیسی کے تحت دو نئے ادارے قائم کیے جائیں گے: پاکستان یوتھ ڈویلپمنٹ کونسل اور فیڈرل ایڈولیسنٹ اینڈ یوتھ ایجنسی۔ ان اداروں کا مقصد پالیسی پر عملدرآمد کی نگرانی اور نوجوانوں سے متعلق امور کو مربوط انداز میں چلانا بتایا گیا ہے۔

رائے شماری اور مشاورتی عمل

بریفنگ کے مطابق پالیسی کی تشکیل کے لیے وسیع پیمانے پر مشاورت کی گئی۔ اس دوران 32 ہزار 145 سروے مکمل کیے گئے، جبکہ تقریباً دو لاکھ نوجوانوں کی آرا شامل کی گئیں۔

وزیراعظم نے اجلاس کے دوران ہدایت دی کہ کابینہ ارکین کی جانب سے دی گئی تجاویز کو بھی مجوزہ پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ اس ہدایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پالیسی کا حتمی مسودہ ابھی حتمی شکل اختیار کر رہا ہے اور اس میں مزید ترمیم ممکن ہے۔

اہم نکات (Key Facts)

  • وفاقی کابینہ نے نیشنل ایڈولیسنٹ اینڈ یوتھ پالیسی کی اصولی منظوری دی
  • پالیسی کے چار ستون: تعلیم، روزگار، شمولیت، ماحولیات
  • پاکستان یوتھ ڈویلپمنٹ کونسل اور فیڈرل ایڈولیسنٹ اینڈ یوتھ ایجنسی قائم ہوں گی
  • 32,145 سروے اور تقریباً 2 لاکھ نوجوانوں کی رائے شامل کی گئی
  • ای سی سی اور کابینہ کمیٹی برائے قانونی امور کے فیصلوں کی بھی توثیق ہوئی
  • یوتھ پالیسی

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

نیشنل یوتھ پالیسی کی منظوری کس نے دی؟
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ نے اس کی اصولی منظوری دی۔

یوتھ پالیسی کے کتنے بنیادی ستون ہیں؟
اعلامیے کے مطابق چار ستون ہیں تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات۔

پالیسی کے تحت کون سے نئے ادارے بنیں گے؟
پاکستان یوتھ ڈویلپمنٹ کونسل اور فیڈرل ایڈولیسنٹ اینڈ یوتھ ایجنسی قائم کی جائیں گی۔

پالیسی کی تشکیل میں کتنے نوجوانوں کی رائے شامل کی گئی؟
: بریفنگ کے مطابق تقریباً دو لاکھ نوجوانوں کی رائے اور 32,145 سروے شامل کیے گئے۔

کیا پالیسی کا مسودہ حتمی ہے؟
نہیں، وزیراعظم نے کابینہ ارکین کی تجاویز کو بھی پالیسی میں شامل کرنے کی ہدایت دی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسودہ ابھی زیرِ نظرثانی ہے۔

دیگر کابینہ فیصلوں کی توثیق

اسی اجلاس میں کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے ریاستی ملکیتی اداروں کے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔ اس کے علاوہ اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) اور کابینہ کمیٹی برائے قانونی امور کے فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔

اعلامیے میں ان فیصلوں کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے مزید معلومات کے لیے سرکاری ذرائع سے رجوع کرنا ہوگا۔

وفاقی کابینہ کے حالیہ فیصلوں پر ہماری مکمل کوریج