جیکب آباد میں ایرانی تیل کی کھلی فروخت، ذرائع کا الزام
۷ نومبر ۲۰۲۶ · ✍️ ایس این این نیوز اردو · 👁 ۲ · ۵ منٹ کا مطالعہ
کاروبار / معیشترپورٹر عبدالباقی
ایس این این نیوز
جیکب آباد ایرانی تیل کی مبینہ کھلی فروخت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، ذرائع کے مطابق۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسمگل شدہ پیٹرول اور ڈیزل شہر کی سڑکوں پر بغیر روک ٹوک بیچا جا رہا ہے۔
ذرائع نے الزام لگایا ہے کہ کسٹم اور ایف بی آر کے کچھ افسران اس کاروبار میں ملوث ہیں اور ہفتہ وار رقم وصول کرتے ہیں۔ یہ الزامات ثابت نہیں ہوئے، اور رپورٹ میں کسی افسر کا نام، دستاویز یا ثبوت شامل نہیں۔ متعلقہ محکموں کا مؤقف بھی دستیاب نہیں۔
ذرائع کے مطابق کیا ہو رہا ہے
ذرائع کے مطابق ایران سے اسمگل ہو کر آنے والا تیل جیکب آباد میں سڑکوں پر فروخت ہو رہا ہے، حتیٰ کہ ایف بی آر کے دفتر کے قریب بھی۔ اسمگلنگ کا مطلب ہے ٹیکس اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے سامان غیر قانونی طریقے سے لانا۔
رپورٹ میں کسی مخصوص مقام، وقت یا فروخت کنندہ کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
کسٹم اور ایف بی آر پر الزامات
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ کسٹم اور ایف بی آر کے افسران اسمگلنگ روکنے کے بجائے ایجنٹوں اور اسمگلروں سے ملے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اس کے بدلے ہر ہفتے لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں۔
یہ ایک سنگین الزام ہے، لیکن رپورٹ میں کوئی نام، تاریخ، رقم کا ماخذ یا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اس لیے اسے ذرائع کا دعویٰ ہی سمجھنا چاہیے۔ جب تک کوئی عدالت یا مستند ادارہ تصدیق نہ کرے، کسی بھی افسر پر جرم ثابت نہیں۔
قومی خزانے کو نقصان اور نیشنل ایکشن پلان
ذرائع کے مطابق اس کاروبار سے قومی خزانے کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس رقم کا حساب یا طریقۂ کار رپورٹ میں نہیں بتایا گیا، اس لیے یہ اندازہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت ضلعی سطح پر مشترکہ اجلاس ہو چکے ہیں، لیکن عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی اور اس سے منسلک جرائم کے خلاف ایک قومی حکمت عملی ہے۔ رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ کن اجلاسوں کا ذکر ہے یا کیا فیصلے ہوئے۔
شہریوں کے خدشات اور مطالبات
رپورٹ میں کہا گیا کہ شہری اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ گرمی یا کسی چنگاری سے آگ بھڑک سکتی ہے۔ پیٹرول جیسا ایندھن جلد آگ پکڑ لیتا ہے، اس لیے غیر محفوظ ذخیرے کا خطرہ ایک عام تشویش ہے، لیکن رپورٹ میں کسی ماہر یا واقعے کا حوالہ نہیں۔
شہریوں اور سول سوسائٹی نے وفاقی حکومت، کسٹم کلیکٹر حیدرآباد اور اسسٹنٹ کلیکٹر سکھر سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹس لیا جائے اور ملوث افسران اور عملے کے خلاف قانونی کارروائی ہو۔
اہم نکات
- ذرائع کے مطابق جیکب آباد میں اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کھلے عام فروخت ہو رہا ہے
- ذرائع نے کسٹم اور ایف بی آر کے کچھ افسران پر ملی بھگت اور ہفتہ وار وصولی کا الزام لگایا
- الزام کا کوئی ثبوت، نام یا دستاویز رپورٹ میں شامل نہیں
- شہریوں اور سول سوسائٹی نے کسٹم کلیکٹر حیدرآباد اور اسسٹنٹ کلیکٹر سکھر سے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا
- کسی محکمے کا مؤقف شامل نہیں؛ تمام دعوے غیر تصدیق شدہ ہیں
- ایرانی تیل
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
رپورٹ میں کیا دعویٰ کیا گیا ہے؟
کہ جیکب آباد میں اسمگل شدہ ایرانی تیل کھلے عام فروخت ہو رہا ہے۔
کن پر الزام ہے؟
ذرائع کے مطابق کسٹم اور ایف بی آر کے کچھ افسران پر، مگر کوئی نام یا ثبوت نہیں۔
کیا الزامات ثابت ہو چکے ہیں؟
نہیں، یہ ذرائع کے دعوے ہیں اور ان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
شہریوں کا مطالبہ کیا ہے؟
معاملے کا نوٹس لیا جائے اور جو افسران مبینہ طور پر ملوث ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
کیا کسٹم یا ایف بی آر نے جواب دیا؟
اس رپورٹ میں ان کا کوئی بیان شامل نہیں۔
محکموں کا مؤقف اور ابھی کیا واضح نہیں
اس رپورٹ میں کسٹم، ایف بی آر، پولیس یا ضلعی انتظامیہ کا کوئی بیان شامل نہیں۔ منصفانہ رپورٹنگ کے لیے ان کا جواب ضروری ہے، اور الزامات پر عموماً محکمے تحقیقات یا تردید کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ عمومی نکات ہیں اور اس رپورٹ کے کسی نامزد ذریعے سے منسوب نہیں۔
یہ واضح نہیں کہ فروخت کتنے بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے، کسی کارروائی یا مقدمے کی اطلاع ہے یا نہیں، اور ذرائع کون ہیں۔ قارئین کو متعلقہ اداروں کے باضابطہ بیانات کا انتظار کرنا چاہیے۔ نئی تصدیق شدہ معلومات آنے پر یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
جیکب آباد میں ایرانی تیل کی مبینہ کھلی فروخت سے متعلق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے، جس پر متعلقہ حکام کی توجہ اور کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

کاروبار / معیشت
کاروبار / معیشت
کاروبار / معیشت
کاروبار / معیشت