google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

پاکستان گندم ڈی ریگولیشن پالیسی: کسانوں کی ناکام پالیسی پر شدید تنقید

ایس این این نیوز اردو

September 22, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از قلم: اسامہ زاہد

پاکستان گندم ڈی ریگولیشن پالیسی پر کسانوں کی تنقید

پاکستان کی گندم ڈی ریگولیشن پالیسی کو ایک بار پھر کسانوں کی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی مارکیٹ بیسڈ نظام کی طرف منتقلی کے باوجود انہیں گندم کا مناسب ریٹ نہیں مل رہا۔ کسانوں کے مطابق یہ تبدیلی نامکمل طریقے سے کی گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ نہ تو حکومتی تحفظ سے مستفید ہو پا رہے ہیں اور نہ ہی کھلی منڈی کے فوائد سے۔

یہ تنقید ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کو گندم کی قلت کا سامنا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ستمبر 2026 میں تصدیق کی کہ حکومت دس لاکھ ٹن تک گندم درآمد کرے گی، جس میں سے ساڑھے سات لاکھ ٹن نومبر تک پہلے مرحلے میں پہنچے گی، کیونکہ تقریباً تیس لاکھ ٹن کی قلت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

کسانوں کے مطابق پالیسی ناکام کیوں ہوئی

کسانوں کے مطابق اصل مسئلہ حکومتی پالیسی میں تسلسل کی کمی ہے۔ کسان نمائندوں کے مطابق حکومت نے اس سیزن گندم کا ریٹ مقرر ہی نہیں کیا، جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو فصل کی کٹائی سے پہلے کوئی یقینی قیمت میسر نہیں تھی یہ روایتی خریداری نظام سے واضح انحراف ہے جو پاکستان میں دہائیوں سے رائج تھا۔

کسانوں کا مزید کہنا ہے کہ حکومتی خریداری مطلوبہ پیمانے پر نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے انہیں کھلی منڈی میں کم قیمت پر گندم بیچنا پڑی، جبکہ دوسری طرف صارفین کے لیے آٹے کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ کسان موجودہ پالیسی کو “آدھا تیتر، آدھا بٹیر” یعنی ادھوری ڈی ریگولیشن قرار دیتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر حکومت ڈی ریگولیشن کرنا چاہتی ہے تو اسے مکمل طور پر کیا جائے، نہ کہ کسانوں کو درمیان میں لٹکا کر رکھا جائے۔

کسانوں کے مطابق ماضی میں بھی پالیسی ناکام رہی

یہ پہلا موقع نہیں کہ کسانوں نے ایسی شکایات کی ہوں۔ کسان تنظیموں کے مطابق گندم پالیسی سابقہ سالوں میں بھی بری طرح ناکام ہوئی، جیسا کہ 2024-25 کے سیزن میں دیکھا گیا جب حکومتی خریداری اچانک روکنے سے کاشت کے رقبے میں نمایاں کمی آئی اور کھلی منڈی میں قیمتیں گر گئیں۔

کسانوں کے مطابق بار بار کی ناکامیوں نے پاکستان کو درآمد کی طرف دھکیلا، حالانکہ ملک میں گھریلو ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اور اس کا بوجھ بالآخر کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ قومی خزانے پر بھی پڑتا ہے۔

اہم حقائق

  • حکومت نے 2026 میں دس لاکھ ٹن تک گندم درآمد کرنے کی تصدیق کی، جس میں سے ساڑھے سات لاکھ ٹن نومبر تک پہلے مرحلے میں آئے گی۔
  • یہ درآمد تقریباً تیس لاکھ ٹن کی متوقع قلت کے پیش نظر کی جا رہی ہے۔
  • کسانوں کے مطابق اس سیزن ان کے لیے کوئی گندم ریٹ مقرر نہیں کیا گیا۔
  • کسان تنظیموں کے مطابق موجودہ پالیسی محض جزوی ڈی ریگولیشن ہے، اور حکومت سے ایک واضح سمت اپنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
  • 2024-25 کے سیزن میں بھی خریداری میں کمی نے کسانوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
  • ریگولیشن پالیسی

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

پاکستان کی گندم ڈی ریگولیشن پالیسی کیا ہے؟
یہ حکومت کی طرف سے دہائیوں پرانے براہ راست گندم خریداری کے نظام سے ہٹ کر ایک ایسے نظام کی طرف منتقلی ہے جس میں نجی خریدار اور مارکیٹ قیمتیں زیادہ کردار ادا کریں، جبکہ ریاست ایک محدود سپورٹ پرائس فراہم کرے۔

پاکستان اپنی گندم پیدا کرنے کے باوجود درآمد کیوں کر رہا ہے؟
حکام کے مطابق حکومتی خریداری میں کمی اور حالیہ سیزنز میں کاشت کے رقبے میں کمی کی وجہ سے تقریباً تیس لاکھ ٹن کی متوقع قلت ہے۔

کتنی گندم درآمد کی جا رہی ہے اور کب؟
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے مطابق کل دس لاکھ ٹن تک، جس میں سے ساڑھے سات لاکھ ٹن نومبر تک پہلے مرحلے میں پہنچے گی۔

کسان اس پالیسی سے ناخوش کیوں ہیں؟
کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس سیزن ان کی گندم کے لیے کوئی واضح ریٹ مقرر نہیں کیا، جس کی وجہ سے انہیں کھلی منڈی میں کم قیمت پر فروخت کرنا پڑی، جبکہ آٹے کی قیمتیں صارفین کے لیے بڑھ گئیں۔

کیا یہ پہلے بھی ہو چکا ہے؟
جی ہاں — کسان تنظیموں کے مطابق 2024-25 کے سیزن میں بھی اچانک خریداری بند ہونے سے کاشت کے رقبے اور قیمتوں دونوں پر منفی اثر پڑا تھا۔

حکومتی موقف اور بڑی تصویر

حکام مکمل حکومتی خریداری سے ہٹ کر مارکیٹ بیسڈ نظام کی طرف اس تبدیلی کو ایک وسیع تر اصلاحاتی عمل کا حصہ قرار دیتے ہیں، جس کا تعلق جزوی طور پر آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط سے بھی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد بڑے پیمانے پر سبسڈائزڈ خریداری کے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے، جبکہ کسانوں کے لیے ایک سپورٹ پرائس کی سطح بھی برقرار رکھی جائے۔

آزاد تجارتی و زرعی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان دہائیوں سے مکمل حکومتی کنٹرول اور ڈی ریگولیشن کے درمیان جھولتا رہا ہے، اور ہر تبدیلی اپنے ساتھ نئے مسائل لے کر آئی۔ ملرز اور نجی تجارتی گروپ مکمل ڈی ریگولیشن کے حق میں ہیں، جبکہ کسان تنظیمیں مسلسل زیادہ اور یقینی سپورٹ پرائس کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

ریگولیشن پالیسی سے متعلق اہم تفصیلات