از اسامہ زاہد
ایران کی آبنائے ہرمز کی شرط کیا ہے؟
ایران کی آبنائے ہرمز کی شرط نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ اہم بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے واشنگٹن کو ایرانی مطالبات پر پیش رفت کرنا ہوگی۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی، امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے اور جنگی نقصانات کے ازالے سمیت کئی شرائط عائد کی ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ یہ راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، اس لیے طویل بندش سے تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اہم حقائق
- ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی پالیسی میں تبدیلی چاہتا ہے۔
- ایران نے پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
- تہران منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی بھی چاہتا ہے۔
- امریکی فوجی موجودگی اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
- 300 ارب ڈالر کا معاوضہ یا بحالی پیکیج پہلے کی مذاکراتی تجاویز میں رپورٹ ہوا ہے، لیکن اسے موجودہ حتمی معاہدہ نہیں کہا جا سکتا۔
کیا آبنائے ہرمز 2029 تک بند رہے گی؟
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو جنوری 2029 تک بند رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے، یعنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ مدت صدارت کے اختتام تک۔
تاہم اس مخصوص 2029 کی حتمی مدت کی آزادانہ طور پر مضبوط تصدیق دستیاب نہیں ہے۔ معتبر حالیہ رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سخت شرائط رکھی ہیں، مگر یہ کہنا کہ بندش لازماً 2029 تک جاری رہے گی، فی الحال احتیاط کے بغیر درست نہیں ہوگا۔
اسی طرح سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوسٹ میں 300 ارب ڈالر ہرجانے اور 100 ارب ڈالر تک منجمد اثاثوں کی رہائی سمیت متعدد مطالبات کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس پوسٹ کو اکیلے سرکاری تصدیق کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل
دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں اختلافات برقرار ہیں۔ امریکہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے اور بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ ایران پابندیوں اور امریکی فوجی دباؤ کے خاتمے کو کسی بھی پیش رفت کے لیے اہم قرار دے رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی معیشت کے لیے بھی اہم ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد معمول کے مقابلے میں بہت کم رہی، جس سے توانائی کی عالمی ترسیل کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: ایران آبنائے ہرمز کیوں نہیں کھول رہا؟
ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ کو پابندیاں، فوجی دباؤ اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے سمیت اس کے اہم مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔
سوال: ایران نے کتنے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے؟
300 ارب ڈالر کا مطالبہ سابقہ مذاکراتی تجاویز میں رپورٹ ہوا ہے، تاہم اسے موجودہ حتمی معاہدہ نہیں کہا جا سکتا۔
سوال: کیا ایران نے 2029 تک آبنائے ہرمز بند رکھنے کا اعلان کیا ہے؟
2029 تک بندش کے دعوے کی مضبوط آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ البتہ ایران نے آبنائے کھولنے کے لیے سخت شرائط ضرور سامنے رکھی ہیں۔
سوال: آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
یہ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شامل ہے، اس لیے اس میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
سوال: کیا امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں؟
دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پیش رفت انتہائی محدود ہے جبکہ ثالثوں کے ذریعے رابطے اور آبنائے ہرمز سے متعلق انتظامات پر بات چیت کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
ایران کے اہم مطالبات کیا ہیں؟
ایرانی مطالبات میں سب سے نمایاں شرط امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ہے۔ تہران یہ بھی چاہتا ہے کہ ایرانی منجمد اثاثے جاری کیے جائیں اور خطے میں امریکی فوجی کارروائیاں ختم کی جائیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ جون میں سامنے آنے والی مذاکراتی تجاویز میں ایران کی جانب سے 300 ارب ڈالر کے معاشی بحالی اور تعمیر نو کے پیکیج کا مطالبہ بھی رپورٹ ہوا تھا، تاہم اسے حتمی معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
آبنائے ہرمز اور امریکہ ایران کشیدگ