از اسامہ زاہد
واشنگٹن ڈی سی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ وہ ایران کے خلاف ایک بڑے پیمانے کے فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں جو رواں سال کے شروع میں کیے گئے امریکہ اسرائیل مشترکہ آپریشن “ایپک فیوری” سے بھی بڑا ہوگا۔ یہ بات انہوں نے ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔
ٹرمپ کا فیصلے کے قریب ہونے کا اشارہ
ٹرمپ نے ایکسیوس کو بتایا کہ وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، اور ممکنہ حملے فروری کے آخر سے اپریل 2026 تک جاری رہنے والے آپریشن ایپک فیوری سے بھی بڑے ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اسے ایک بڑا حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ حتمی فیصلے کے قریب ہیں اور تیاریاں مکمل ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے حملے کا وقت، اہداف، یا زمینی امریکی فوجیوں کی شمولیت سے متعلق کوئی تفصیل نہیں بتائی۔
ایران مذاکرات چاہتا ہے مگر معاہدے کیلئے تیار نہیں، ٹرمپ کا دعویٰ
ٹرمپ کے مطابق ایرانی حکام مذاکرات چاہتے ہیں مگر حتمی معاہدہ کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران پر ابھی تک اتنا دباؤ نہیں پڑا کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کرے، البتہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کو کن شرائط پر پورا اترنا ہوگا۔
دو امریکی حکام نے الگ سے ایکسیوس کو بتایا کہ جمعرات تک کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی فوج کو کوئی نئی ہدایات دی گئی ہیں۔
اسرائیل کا ممکنہ کردار
ٹرمپ نے کہا کہ اگر واشنگٹن کہے تو اسرائیل چند منٹوں میں نئے آپریشن ایپک فیوری میں شامل ہونے کیلئے تیار ہے، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ امریکہ کو تہران کے خلاف نئی کارروائی کیلئے کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر اسرائیل خود سے تنازعے میں شامل ہوا تو اس کے نتائج ہوں گے، جو غالباً ایران کی جانب سے اسرائیل پر ممکنہ جوابی حملوں کی طرف اشارہ تھا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ایران نواز حوثی افواج نے یمن سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں، جن میں سعودی پرچم بردار جہاز بھی شامل ہیں، جس سے عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ مزید متاثر ہو رہا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر خبردار کیا کہ حوثیوں کے کسی بھی نئے حملے کو ایران کی ذمہ داری تصور کیا جائے گا، کیونکہ حوثی ایران کے حمایت یافتہ ہیں، اور اس کا سخت فوجی جواب دیا جائے گا۔
کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ ایکسیوس کے مطابق سروے بتاتے ہیں کہ امریکی عوام میں مکمل جنگ کی طرف واپسی کی حمایت کم ہے۔
پس منظر: آپریشن ایپک فیوری
آپریشن ایپک فیوری امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ فوجی آپریشن تھا جو 28 فروری 2026 کو شروع ہوا اور اپریل میں ختم ہوا۔
اس آپریشن میں ایرانی اعلیٰ قیادت، بیلسٹک میزائل تنصیبات، اور ایران کی بحری و ڈرون صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے حملوں میں نمایاں جانی نقصان کی اطلاع دی، جبکہ ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے۔
آگے کیا ہوگا؟
ٹرمپ نے اپنے فیصلے کیلئے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی، اور انتظامیہ کے حکام نے بھی نئے آپریشن ایپک فیوری کے قریب ہونے کی تصدیق نہیں کی۔ یہ انٹرویو وائٹ ہاؤس کی جانب سے تہران کے خلاف بڑھتے ہوئے سخت بیانات کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی راستے کھلے تو ہیں مگر تاحال کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔