از اسامہ زاہد
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جاری اصلاحاتی عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس وصولی کے مقررہ اہداف کے حصول میں کسی قسم کی سستی نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے ایف بی آر کے ہفتہ وار اجلاس میں ادارے کی کارکردگی اور جاری اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران ٹیکس آمدن میں اضافے، انتظامی نظام کو بہتر بنانے اور قواعد کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اصلاحات کا فائدہ عملی طور پر ٹیکس نظام میں نظر آنا چاہیے۔
ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے اقدامات جاری
وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر حکام کو ہدایت کی کہ ادارے میں جاری تبدیلیوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر ٹیکس انتظامیہ ملکی معیشت کے لیے اہم ہے اور اس مقصد کے لیے اصلاحاتی اقدامات میں تسلسل برقرار رکھا جانا چاہیے۔
حکومت ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن میں بہتری کے لیے ایف بی آر کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے پر کام کر رہی ہے۔ اس حکمت عملی میں ٹیکس قوانین پر عمل نہ کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی اور ریاستی محصولات کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکس نظام میں بہتری کے ساتھ کاروباری طبقے کے لیے مسائل کم کیے جائیں اور متعلقہ ادارے ٹیکس دہندگان کے ساتھ مؤثر رابطہ برقرار رکھیں۔
کاروباری طبقے کے اعتماد کو اہم قرار دیا گیا
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے کاروباری برادری کے اعتماد میں اضافے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس اعتماد کو اصلاحاتی عمل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری حلقوں کے ساتھ رابطہ مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
کاروباری افراد اور ٹیکس حکام کے درمیان براہ راست رابطے سے ٹیکس سے متعلق مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایف بی آر کی اعلیٰ قیادت کو بڑے کاروباری مراکز میں موجود رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
لاہور اور کراچی میں کاروباری حلقوں سے رابطے کی ہدایت
وزیراعظم نے چیئرمین ایف بی آر اور ادارے کے سینئر افسران کو ہدایت کی کہ وہ ہر ماہ کراچی کے علاوہ لاہور میں بھی دو روز قیام کریں۔
اس ہدایت کا مقصد کاروباری برادری کے مسائل کو قریب سے سمجھنا اور متعلقہ معاملات پر براہ راست مشاورت کو فروغ دینا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے ایف بی آر کی قیادت کو فیلڈ میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
کراچی اور لاہور ملک کے اہم تجارتی مراکز ہیں جہاں مختلف شعبوں سے وابستہ بڑی تعداد میں کاروباری ادارے کام کرتے ہیں۔ ان شہروں میں ایف بی آر حکام کی موجودگی سے ٹیکس سے متعلق معاملات پر براہ راست رابطے کے مواقع بڑھنے کی توقع ہے۔
اہم نکات
- وزیراعظم نے ایف بی آر میں جاری اصلاحاتی عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔
- ٹیکس وصولی کے مقررہ ہدف کے حصول کے لیے نفاذِ قوانین بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔
- کاروباری برادری کے اصلاحات پر بڑھتے اعتماد کا خیرمقدم کیا گیا۔
- ایف بی آر کی اعلیٰ قیادت کو کراچی کے ساتھ لاہور میں بھی ماہانہ قیام کی ہدایت دی گئی۔
- ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا گیا۔
ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم
وزیراعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ مقررہ محصولات حاصل کرنے کے لیے قانون کے نفاذ سے متعلق اقدامات میں مزید بہتری لائی جائے۔ انہوں نے ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
حکومت کے لیے ٹیکس چوری اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام ریونیو بڑھانے کی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر کو قانون کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور قواعد کے مطابق کارروائی کے عمل کو مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ اصلاحاتی عمل کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔ اجلاس میں جاری اقدامات کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کا سلسلہ بھی برقرار رکھنے پر توجہ دی گئی۔
ایف بی آر میں جاری اصلاحات اور ٹیکس نظام سے متعلق مزید خبریں پڑھنے کے لیے ہماری معاشی خبروں کی کیٹیگری ملاحظہ کریں۔