google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

بھارت: طلبہ مظاہرین پر تشدد، امیت شاہ کٹہرے میں

ایس این این نیوز اردو

July 25, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

شمائلہ اسلم

ایس این این اردو

نئی دہلی، بھارت

دہلی میں 20 جولائی کو پولیس کارروائی کے دوران پیلٹ گنز کے استعمال، اور بہار کے جہان آباد میں طلبہ پر براہِ راست فائرنگ کی خبروں نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی وزیرِ داخلہ امیت شاہ شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔

دہلی میں پیلٹ گنز کے استعمال کا الزام

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، 20 جولائی 2026 کو نئی دہلی میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی حد تک پرامن طلبہ اور نوجوان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ڈنڈوں کا استعمال کیا۔ یہ مظاہرے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں امتحانی پرچہ لیک اسکینڈلز اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر ہو رہے ہیں۔

زخمی مظاہرین کے طبی معائنوں اور بیانات کے حوالے سے پیلٹ گنز کے استعمال کے دعوے بھی سامنے آئے، جنہیں دہلی پولیس نے مسترد کیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیرِ داخلہ امیت شاہ کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طلبہ کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی، اور یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے تاحال تفصیلی جواب نہیں دیا گیا۔

بہار میں پولیس فائرنگ کی اطلاعات

بہار کے جہان آباد میں مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف مظاہرہ پرتشدد ہو جانے کے بعد پولیس نے فائرنگ کی۔

سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے رکن کمار پرویز کے مطابق پولیس نے 30 سے 35 راؤنڈ فائر کیے، جس سے کئی مظاہرین زخمی ہوئے اور ہسپتال داخل کرائے گئے، تاہم زخمیوں کی مصدقہ تعداد سامنے نہیں آئی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک باضابطہ ردعمل نہیں آیا۔

خواتین مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیوز

طلبہ مظاہرین پر تشدد کی کہانی میں ایک اور تشویشناک پہلو خواتین کے ساتھ برتاؤ کا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں پولیس اہلکار ایک خاتون طالبہ کو ڈنڈوں سے مارتے دکھائی دیے۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے الزام عائد کیا کہ خواتین مظاہرین کو جان بوجھ کر مرد پولیس اہلکاروں کے حوالے کیا گیا، حالانکہ خاتون اہلکار موجود تھیں، جو مقررہ ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔ کچھ اہلکاروں پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے کارروائی کے دوران اپنے نام کے بیج ہٹا دیے تھے۔

دہلی پولیس نے تشدد اور بدسلوکی کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ):

1. مظاہرے کس وجہ سے شروع ہوئے؟
یہ احتجاج امتحانی پرچہ لیک ہونے کے اسکینڈلز اور تعلیمی شعبے میں بنیادی اصلاحات کے مطالبے کے پیشِ نظر شروع ہوا۔

2. کیا پیلٹ گنز کا استعمال مصدقہ ہے؟
زخمیوں کے طبی معائنوں اور گواہیوں کے حوالے سے الزامات موجود ہیں، لیکن دہلی پولیس نے اس کی تردید کی ہے۔

3. کیا امیت شاہ نے خود کوئی کارروائی کی؟
اپوزیشن نے الزام لگایا کہ وزیرِ داخلہ کی وزارت کے تحت آنے والی فورسز نے یہ کارروائی کی، مگر ذاتی طور پر ان کے کسی اقدام کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔

4. بہار میں کتنے لوگ زخمی ہوئے؟
مقامی کارکن کے مطابق کئی مظاہرین طلبہ زخمی ہوئے، لیکن مصدقہ تعداد سامنے نہیں آئی۔

5. حکومت کا ردعمل کیا رہا؟
وزیرِاعظم مودی نے انصاف کا وعدہ کیا، مگر تفصیلی وضاحت تاحال نہیں دی گئی۔

اہم نکات

  • 20 جولائی کو دہلی میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی؛ پیلٹ گنز کے استعمال کا الزام
  • ہیومن رائٹس واچ نے پرامن مظاہرین کے خلاف حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کی تصدیق کی
  • بہار کے جہان آباد میں پولیس نے 30-35 راؤنڈ فائر کیے
  • خواتین مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیوز اور الزامات سامنے آئے
  • امیت شاہ پر اپوزیشن کی جانب سے براہِ راست تنقید، حکومت کا تاحال کوئی تفصیلی جواب نہیں
  • طلبہ

حکومتی ردعمل اور جاری صورتحال

وزیرِاعظم نریندر مودی نے ہفتوں کی خاموشی کے بعد جمعرات کو بیان دیا اور امتحانی پرچہ لیک اسکینڈلز پر فوری انصاف کا وعدہ کیا، تاہم مظاہرے تھمنے کا نام نہیں لے رہے اور نئی دہلی سمیت ممبئی اور کولکتہ میں بھی احتجاج جاری ہے۔

مودی کے لباس سے متعلق میڈیا سوالات