google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

شہباز شریف کا ولی عہد محمد بن سلمان سے رابطہ، حوثی حملوں کی مذمت

ایس این این نیوز اردو

July 25, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از اسامہ زاہد

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

یہ رابطہ جمعرات کو ہوا، جب یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے دو سعودی آئل ٹینکرز، اینسیلیا اور لیلا، پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔

حوثی حملے اور علاقائی کشیدگی

سعودی حکام نے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں ٹینکر اینسیلیا میں شعلے بھڑک اٹھے، البتہ عملے کا ہر فرد محفوظ طریقے سے باہر نکال لیا گیا۔

یو کے ایم ٹی او، جو برطانیہ کا بحری نگرانی کا ادارہ ہے، کے مطابق ایک ٹینکر کے کپتان نے ایک نامعلوم شے سے تصادم کی خبر دی جس کے باعث آگ لگی اور عملہ اسے قابو کرنے میں مصروف رہا۔ حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ گروپ کی کارروائیوں سے قریباً دس تجارتی بحری جہاز اپنا راستہ بدلنے پر مجبور ہوئے، اور خبردار کیا کہ سعودی عرب کے خلاف جوابی محاصرے کی پالیسی برقرار رہے گی۔

شہباز شریف کی مذمت اور یکجہتی کا اعادہ

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں حوثی ملیشیا کی کارروائیوں کو کڑے الفاظ میں مسترد کیا، اور انہیں عالمی قوانین سے انحراف، بحری راستوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے خطرہ، اور علاقے کے امن کو نقصان پہنچانے والا عمل قرار دیا۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت دہرائی اور واضح کیا کہ وہ خود، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، اور پاکستانی عوام اس مشکل گھڑی میں سعودی حکومت اور اس کے عوام کے شانہ بشانہ ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، شہباز شریف نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، اور دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت کی۔

بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں تعاون پر اتفاق

وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا تعطل بحری تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم آفس نے گفتگو کو “انتہائی خوشگوار” قرار دیا اور بتایا کہ سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو سراہا۔

اہم نکات

  • وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو، جمعرات کو
  • حوثی گروپ نے سعودی عرب کے دو تیل بردار جہازوں، اینسیلیا اور لیلا، کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
  • ٹینکر اینسیلیا میں آگ لگی، عملہ محفوظ رہا
  • پاکستان نے سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور اس کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
  • دونوں رہنماؤں کا بحیرہ احمر و آبنائے ہرمز میں محفوظ تجارت پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
  • حوثی

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ):

سوال: یہ رابطہ کب ہوا؟
جواب: یہ ٹیلی فونک رابطہ جمعرات (23 جولائی 2026) کو ہوا۔

سوال: حوثیوں نے کن ٹینکرز پر حملے کا دعویٰ کیا؟
جواب: حوثی گروپ نے سعودی آئل ٹینکرز اینسیلیا اور لیلا کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

سوال: پاکستان نے کیا موقف اپنایا؟
جواب: وزیراعظم شہباز شریف نے حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

سوال: کیا کوئی جانی نقصان ہوا؟
جواب: دستیاب رپورٹس کے مطابق ٹینکر کے عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا، جانی نقصان کی کوئی تصدیق شدہ اطلاع نہیں۔

پس منظر

یہ ٹیلی فونک گفتگو ایسے موقع پر ہوئی جب سعودی دفتر خارجہ اس سے قبل ہی ایک باضابطہ بیان کے ذریعے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحری تجارت کو دی جانے والی مسلسل دھمکیوں پر واضح ناراضگی ظاہر کر چکا تھا، اور اس نے متنبہ کیا تھا کہ ایسے اقدامات عالمی تجارتی نظام اور علاقائی سلامتی، دونوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

پاکستان-سعودی عرب تعلقات اور علاقائی سلامتی سے متعلق حالیہ پیش رفت