رپورٹ: حماد کاہلوں
ایس این این نیوز،
ذیلی سرخی: کینیڈین انٹیلی جنس عہدیدار کا دعویٰ، بھارت پر تنقید میں شدت
اسلام آباد (ایس این این نیوز، رپورٹ: حماد کاہلوں) کینیڈا کے ایک انٹیلی جنس عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے اوٹاوا میں قائم اپنے سفارت خانے کو کینیڈا میں سرگرم بھارتی نژاد جرائم پیشہ اور مبینہ دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا۔
عہدیدار کے مطابق سفارت خانہ عملی طور پر ایک “کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر” کا کردار ادا کر رہا تھا۔
پس منظر: کینیڈا-بھارت کشیدگی
یہ الزام کوئی نیا نہیں۔ کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جنس سروس (CSIS) کی ایک رپورٹ کے مطابق، رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس (RCMP) کا خیال ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر کو رپورٹ کرنے والی خفیہ ایجنسی نے کینیڈا میں اپنے مذموم مقاصد کے لیے لارنس بشنوئی گروہ کا استعمال کیا۔
یہ رپورٹ رواں سال جی سیون سربراہی اجلاس کے اختتام کے فوراً بعد جاری کی گئی تھی۔
نجر قتل کیس کا حوالہ
رپورٹ میں 2023 میں برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی حکومت کے مبینہ کردار کو بھارت کی “غیر ملکی جبر کی کوششوں میں ایک بڑی شدت” قرار دیا گیا۔
کینیڈا کی حکومت نے نجر کے قتل کی تحقیقات 2024 میں بھی جاری رکھیں، جس میں مئی 2024 میں چار افراد کو گرفتار کر کے قتل اور قتل کی سازش کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی۔
بشنوئی گینگ کو ‘دہشت گرد تنظیم’ قرار دینے کا فیصلہ
کینیڈا نے حال ہی میں بھارتی حکام پر الزام عائد کیا کہ وہ وزیر اعظم مودی کی حکومت کے ناقدین کو بیرون ملک خاموش کرانے کے لیے “لارنس بشنوئی گینگ جیسی جرائم پیشہ تنظیموں” کو انٹیلی جنس فراہم کر رہے ہیں، جسے بھارت نے مسترد کر دیا۔
بشنوئی گروہ کی سربراہی جیل میں قید بھارتی گینگسٹر لارنس بشنوئی کرتا ہے، اور کینیڈین حکام کے مطابق یہ بنیادی طور پر بھارت سے کام کرنے والا ایک بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورک ہے جس کی موجودگی کینیڈا میں بھی ہے۔
بھارت کا مؤقف
بھارت نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اوٹاوا پر ثبوت فراہم نہ کرنے اور بشنوئی سے منسلک مطلوب افراد کی حوالگی کی بار بار درخواستوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ نئی دہلی کا اصرار ہے کہ کینیڈا نے دو درجن سے زائد حوالگی کی درخواستوں کو نظر انداز کیا اور بھارت میں مطلوب افراد کو تحفظ فراہم کیا۔
دوطرفہ تعلقات: کشیدگی کے باوجود بہتری کی کوششیں
تاہم دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مہینوں میں سفارتی رابطے میں بہتری کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ کینیڈا میں بھارت کے ہائی کمشنر دنیش کے پٹنائک کے مطابق دونوں ممالک کی سلامتی ایجنسیوں کے درمیان تعاون میں نمایاں بہتری آئی ہے، اور جو رابطہ ماضی میں منقطع تھا اب باقاعدہ مذاکرات کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
کینیڈا بھارت سفارتی کشیدگی