حماد کاہلوں
ایس این این نیوز
ڈیرہ غازی خان: سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع پر گردش کرنے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے میں سرگرم بدنام زمانہ “لادی گینگ” کے سرغنہ خدا بخش چاکرانی عرف خدی کے بھائی ابراہیم چاکرانی نے آٹھ ساتھیوں سمیت خود کو قانون کے حوالے کر دیا ہے۔
صحافی حماد کاہلوں کی جانب سے ایس این این نیوز پر جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ابراہیم چاکرانی کو حال ہی میں ایک قیمتی گاڑی بھی فراہم کی گئی۔
تاہم اس دعوے کی باضابطہ طور پر پولیس یا کسی سرکاری ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی، اور نہ ہی گاڑی کی فراہمی سے متعلق کوئی سرکاری بیان جاری کیا گیا ہے۔
خدا بخش چاکرانی کون تھا؟
خدا بخش چاکرانی عرف “خدی” کو ڈیرہ غازی خان کے علاقے میں خوف کی علامت سمجھے جانے والے مسلح گروہ “لادی گینگ” کا سرغنہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ ایک شہری رمضان کے ہاتھ، ناک اور کان کاٹنے کے سنگین واقعے میں مرکزی ملزم تھا۔
تصدیق شدہ رپورٹس کے مطابق جولائی 2021 میں سابق وزیراعظم عمران خان اور اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر شروع کیے گئے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران خدا بخش چاکرانی کوٹ مبارک کے علاقے میں پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے میں ایک ساتھی سمیت ہلاک ہوا تھا۔ اس وقت آر پی او ڈیرہ غازی خان محمد فیصل رانا نے تصدیق کی تھی کہ ملزم پر دہشت گردی، قتل، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان سمیت 30 سے زائد مقدمات درج تھے۔
حالیہ دعوے میں تضاد
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی حالیہ رپورٹ میں خدا بخش چاکرانی کو زندہ اور حالیہ ہفتے سرنڈر کرنے والا ظاہر کیا گیا ہے، جو 2021 کی تصدیق شدہ خبروں سے متصادم ہے۔ ممکنہ طور پر یہ رپورٹ خدا بخش کے بھائی ابراہیم چاکرانی کی سرنڈر کی خبر کو خدا بخش سے غلط طور پر جوڑ رہی ہے، تاہم اس امر کی تصدیق کے لیے سرکاری ذرائع کا انتظار ضروری ہے۔
آگے کیا؟
معاملے کی حقیقی نوعیت بشمول ابراہیم چاکرانی کی شناخت، سرنڈر کی تفصیلات، اور گاڑی کی فراہمی سے متعلق دعوے کی تصدیق کے لیے ڈیرہ غازی خان پولیس یا محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے باضابطہ بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ غیر تصدیق شدہ تفصیلات کو حتمی حقیقت نہ سمجھیں۔
ادی گینگ کا پس منظرابراہیم چاکرانی