از اسامہ زاہد
اسلام آباد، 17 جون 2026 وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خشک سالی اور صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر اپنا باضابطہ پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کے ساتھ مل کر زمین کی بحالی، چراگاہوں کے پائیدار انتظام اور موسمیاتی لچک کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس سال کا موضوع: قدرتی چراگاہیں ایک قومی اثاثہ
رواں سال یہ عالمی دن “قدرتی چراگاہیں: پہچانیں، احترام کریں، بحال کریں” کے عنوان تلے منایا جا رہا ہے۔ یہ موضوع غذائی تحفظ، حیاتیاتی تنوع، آبی نظم و نسق اور دیہی روزگار کے تحفظ میں قدرتی چراگاہوں کے ناگزیر کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ پاکستان کی وسیع قدرتی خشک چراگاہیں ایک انمول قومی سرمایہ ہیں، جو مویشی پالنے والوں، دیہی آبادیوں اور ماحولیاتی نظام کو سہارا دیتی ہیں۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل
وزیراعظم نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، طویل خشک ادوار، پانی کی قلت اور زرخیز زمین کا انحطاط ملکی زرعی پیداوار اور قومی غذائی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیچیدہ چیلنجز حکومت، جامعات، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کی طرف سے فوری اور مربوط قومی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔
زرخیز اسکیم: چھوٹے کاشتکاروں کو مالی سہارا دینے کا حکومتی قدم
وفاقی حکومت نے “زرخیز اسکیم” کے نام سے ایک اہم زرعی مالیاتی پروگرام متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد پاکستان بھر میں زمین کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا اور زرخیز زمین کا تحفظ کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت لاکھوں چھوٹے کاشتکاروں کو بلاسود اور بغیر ضمانت قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی زرعی زمین کی بہتری اور تحفظ میں سرمایہ کاری کر سکیں۔
قرضوں کے علاوہ اس اسکیم کے تحت زرعی مشینری پر سبسڈی بھی دی جا رہی ہے تاکہ کسانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے اور قابلِ کاشت زمین کی ذمہ دارانہ نگہداشت ممکن ہو سکے۔
زمین اور چراگاہوں کی بحالی کے لیے جامع حکمتِ عملی
وزیراعظم کے بیان کے مطابق حکومتِ پاکستان ایک کثیر الجہتی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں شامل ہیں:
- زمین کی بحالی اور تجدید کے پروگرام
- چراگاہوں کا متناسب اور پائیدار انتظام
- ملک گیر شجرکاری مہمات
- ماحولیاتی نظام کی بحالی کے اقدامات
- خشک سالی کے اثرات کم کرنے کے لیے مقامی کمیونٹیز کو منصوبہ بندی میں براہِ راست شریک کیا جائے گا
- خشک
وزیراعظم نے تمام فریقین بشمول وفاقی و صوبائی حکومتوں، جامعات، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور مقامی برادریوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کے زمینی وسائل کے تحفظ، بحالی اور طویل مدتی انتظام کے لیے اپنی مشترکہ کاوشوں کو مزید مستحکم کریں۔
آنے والی نسلوں کے لیے مشترکہ ذمہ داری
وزیراعظم نے اپنے پیغام کے آخر میں شہریوں اور اداروں دونوں پر زور دیا کہ درخت لگانے اور آپسی اشتراک کو اپنی ترجیح بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چھوٹے عملی قدم ہی موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی بنیاد ہیں اور انہی سے اگلی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور بہتر پاکستان تعمیر ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا: “آئیے اس عزم کی تجدید کریں کہ ہم اپنی خشک زرخیز زمین، جنگلات اور قدرتی چراگاہوں کے تحفظ و بحالی کے لیے مل کر کام کریں گے۔”
زرخیز اسکیم کے تحت کسانوں کو بلاسود قرضے مکمل تفصیل