از اسامہ زاہد
واشنگٹن نے 6 افراد اور 4 اداروں کو بلیک لسٹ کر دیا
امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ خزانہ نے مشترکہ طور پر ایران کی فوجی اور دفاعی خریداری میں معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ ایران کو اقتصادی اور سفارتی محاذ پر گھیرنے کے لیے ایک بار پھر پابندیوں کا راستہ اختیار کیا ہے۔
کن پر پابندی عائد کی گئی؟
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق مجموعی طور پر 6 افراد اور 4 اادارے پابندیوں کی زد میں آئے ہیں۔
پابندی کا نشانہ بننے والے افراد اور ادارے ایران، ہانگ کانگ اور بیلاروس میں قائم ہیں۔ یہ نیٹ ورکس ایرانی فوج اور وزارتِ دفاع کے لیے اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی خریداری میں مدد فراہم کرتے تھے۔
پابندیوں کا مقصد کیا ہے؟
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق یہ پابندیاں ایران کے فوجی، مالی اور اسلحہ نیٹ ورکس کو کمزور کرنے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
واشنگٹن کا موقف ہے کہ ایران کی دفاعی خریداری کے راستے بند کیے بغیر خطے میں استحکام ممکن نہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا ایران پر دباؤ
محکمہ خزانہ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مسلسل نئی پابندیاں عائد کر کے تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بڑھا رہی ہے۔
یہ سلسلہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے پس منظر میں۔
اہم نکات ایک نظر میں
پابندی شدہ افراد: 6 پابندی شدہ ادارے: 4 متعلقہ ممالک: ایران، ہانگ کانگ، بیلاروس اعلان کرنے والے ادارے: امریکی محکمہ خارجہ، امریکی محکمہ خزانہ پالیسی: ٹرمپ انتظامیہ کی میکسیمم پریشر مہم
ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر میکسیمم پریشر پالیسی