حماد کاہلوں
ایس این این نیوز فن لینڈ
مریم نواز کی بیٹی کا ہار اپنی مبینہ غیرمعمولی مالیت، پاکستان میں درآمد اور اس پر کسٹمز ڈیوٹی و دیگر ٹیکسز کی ادائیگی سے متعلق سوالات کی وجہ سے زیرِ بحث ہے۔ اسکینڈینیوین نیوز ایجنسی (ایس این این نیوز) نے اس معاملے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے باضابطہ وضاحت طلب کی ہے۔
حالیہ میڈیا رپورٹس میں مریم نواز شریف کی بیٹی مہرنور صفدر کے شادی کے موقع پر پہنے گئے مریم نواز کی بیٹی کا ہارکو معروف زیورات برانڈ مواواد (Mouawad) کے ’’لے سولیل‘‘ (Le Soleil) ہائی جیولری کلیکشن سے منسوب کیا گیا ہے۔ بعض رپورٹس میں اس ہار کی مالیت کئی ارب پاکستانی روپے تک بتائی گئی ہے، تاہم ایس این این نیوز اس کی حتمی قیمت، ملکیت، خریداری اور درآمدی دستاویزات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
مریم نواز کی بیٹی کے ہار پر کسٹمز سوالات
ایس این این نیوز کی جانب سے بنیادی سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ اگر مذکورہ ہار بیرونِ ملک سے پاکستان درآمد کیا گیا تھا تو کیا اسے کسٹمز حکام کے سامنے باقاعدہ ظاہر کیا گیا اور اس پر قانون کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر قابلِ اطلاق ٹیکسز ادا کیے گئے؟
ایس این این نیوز نے ایف بی آر سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا اس زیور کے حوالے سے کوئی درآمدی، کسٹمز ڈیکلریشن یا ٹیکس ادائیگی کا ریکارڈ موجود ہے۔ اگر ہار پاکستان میں بیرونِ ملک سے لایا گیا تو اس کی کسٹمز ویلیوایشن اور متعلقہ ٹیرف کے تحت کیا کارروائی کی گئی، اس بارے میں بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
اس خبر کی تیاری کے وقت ایس این این نیوز کو ایف بی آر کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
ہار کی مبینہ مالیت کی آزادانہ تصدیق نہیں
مختلف میڈیا رپورٹس میں ہار کی قیمت کے حوالے سے مختلف اعداد سامنے آئے ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ میں اسے مبینہ طور پر مواواد کے ’’لے سولیل‘‘ مریم نواز کی بیٹی کا ہارسے منسلک کرتے ہوئے اس میں 62.34 قیراط کا فینسی انٹینس یلو ڈائمنڈ ہونے اور اس کی مالیت تقریباً 3.3 ارب سے 4.2 ارب روپے کے درمیان ہونے کا ذکر کیا گیا۔ بعض رپورٹس میں اس کی ممکنہ قیمت تقریباً 15 ملین امریکی ڈالر تک بھی بتائی گئی ہے۔
تاہم یہ اعداد میڈیا رپورٹس میں بیان کیے گئے تخمینے ہیں، ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ سرکاری کسٹمز ویلیوایشن نہیں۔ کسی درآمد شدہ زیور پر قابلِ ادا ڈیوٹی کا تعین صرف مارکیٹ میں بتائی جانے والی قیمت سے نہیں کیا جا سکتا۔
کسٹمز ڈیوٹی کا تعین کیسے ہوتا ہے؟
ایف بی آر کے مطابق درآمدی اشیا کی کسٹمز ویلیوایشن متعلقہ قانونی طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے۔ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 25 کے تحت بعض حالات میں ٹرانزیکشن ویلیو سمیت مختلف طریقہ ہائے ویلیوایشن استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح قابلِ ادا ڈیوٹی کا انحصار متعلقہ ٹیرف کلاسیفکیشن، کسٹمز ویلیوایشن، درآمد کی نوعیت اور دیگر قابلِ اطلاق ٹیکسز و چارجز پر ہو سکتا ہے۔
اس لیے اس مرحلے پر یہ حتمی طور پر کہنا درست نہیں ہوگا کہ مذکورہ ہار پر مخصوص رقم، مثلاً 95 کروڑ روپے، ڈیوٹی کے طور پر واجب الادا تھی، جب تک متعلقہ سرکاری ویلیوایشن اور ٹیرف تفصیلات سامنے نہ آئیں۔
اہم حقائق
- میڈیا رپورٹس میں ہار کو مواواد کے ’’لے سولیل‘‘ کلیکشن سے منسوب کیا گیا ہے۔
- مختلف رپورٹس میں اس کی مالیت کئی ارب پاکستانی روپے تک بتائی گئی ہے۔
- ایس این این نیوز نے کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی سے متعلق ایف بی آر سے وضاحت طلب کی ہے۔
- ایف بی آر کی جانب سے اس خبر کی تیاری تک ایس این این نیوز کو باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔
- سرکاری کسٹمز ویلیوایشن اور متعلقہ ٹیرف کے بغیر ڈیوٹی کی حتمی رقم مقرر نہیں کی جا سکتی۔
- مریم نواز کی بیٹی کا ہار
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا ہار کی قیمت سرکاری طور پر 2 ارب روپے سے زیادہ ثابت ہو چکی ہے؟
اس وقت دستیاب معلومات میں ایسی ایف بی آر ویلیوایشن سامنے نہیں آئی۔ مختلف میڈیا رپورٹس میں اس کی قیمت کے مختلف تخمینے دیے گئے ہیں۔
کیا یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ہار پر کسٹمز ڈیوٹی ادا نہیں کی گئی؟
نہیں۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر ڈیوٹی کی عدم ادائیگی کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کیا 95 کروڑ روپے ڈیوٹی کی حتمی رقم ہے؟
اس کی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔ حتمی رقم کا تعین متعلقہ کسٹمز ویلیوایشن اور ٹیرف کلاسیفکیشن کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
کیا ایف بی آر نے اس معاملے پر کوئی وضاحت دی ہے؟
ایس این این نیوز کے مطابق خبر کی تیاری کے وقت ایف بی آر کی جانب سے باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
سرکاری کسٹمز معلومات کہاں دستیاب ہیں؟
ایف بی آر اپنی ویب سائٹ پر کسٹمز ٹیرف، ویلیوایشن اور ڈیوٹی سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔
ایس این این نیوز نے ایف بی آر سے موقف مانگ لیا
ایس این این نیوز نے ایف بی آر سے دریافت کیا ہے کہ آیا مذکورہ زیور کے حوالے سے کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر قابلِ اطلاق ٹیکسز ادا کیے گئے یا نہیں۔
ایس این این نیوز کے مطابق اگر ایف بی آر یا متعلقہ سرکاری ریکارڈ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہار کی درآمد کے وقت تمام قانونی کسٹمز ڈیوٹیز اور ٹیکسز ادا کیے گئے تھے تو ادارہ ایف بی آر کا موقف اور وضاحت بھی شائع کرے گا۔
جب تک سرکاری ریکارڈ یا متعلقہ حکام کی تصدیق سامنے نہیں آتی، ہار کی حتمی مالیت، درآمدی حیثیت یا کسٹمز ڈیوٹی کی عدم ادائیگی سے متعلق دعووں کو غیرمصدقہ سوالات اور الزامات کے طور پر ہی بیان کیا جانا چاہیے۔
مریم نواز کی بیٹی کا ہار اور اس سے متعلق کسٹمز ڈیوٹی کے سوالات کی مکمل تفصیل یہاں پڑھیں۔