رفعت کوثر
، سکینڈے نیوین نیوز ایجنسی
پاکستان میں پٹرولیم لیوی اور بڑھتی قیمتوں کے خلاف چلنے والی جماعت اسلامی دھرنے کی احتجاجی مہم اب ایک ماہ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جمعے کو یہ سلسلہ اپنا انتیسواں دن مکمل کر گیا، اور اس دوران ملک کے مختلف حصوں میں درجنوں مقامات پر لوگ سڑکوں پر ڈٹے رہے۔
پارٹی رہنماؤں کی جانب سے بتایا گیا کہ کراچی سے لے کر پشاور، راولپنڈی، ہری پور اور سوات تک، تقریباً پینتیس سے زائد جگہوں پر احتجاجی پڑاؤ اب بھی قائم ہیں۔ اسی دوران، تحریک اب اگلے مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے — بیس ستمبر کو اسلام آباد کی جانب متوقع بڑے مارچ کی تیاریاں بھی ساتھ ساتھ جاری ہیں۔
دھرنوں کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے
یہ صرف بڑے شہروں تک محدود تحریک نہیں رہی۔ سکھر، چترال اور تیمرگرہ جیسے نسبتاً چھوٹے قصبوں میں بھی احتجاجی کیمپ بن چکے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی کا ایشو صرف شہری آبادی تک محدود نہیں، بلکہ چھوٹے شہروں میں بھی اتنی ہی شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی کے مطابق یہ پورا احتجاجی سلسلہ فی الحال اپنے سب سے اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد بھی موجودہ دھرنے ختم نہیں کیے جائیں گے، بلکہ دونوں سرگرمیاں ایک ساتھ چلتی رہیں گی۔
امیر جماعت اسلامی کا دورہ اور مؤقف
اطلاعات کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے جمعے کے روز بٹ خیلہ اور تیمرگرہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کارکنوں اور مقامی آبادی سے خطاب کیا۔ یہ دورہ دراصل لانگ مارچ سے قبل عوامی رابطہ مہم کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مذاکرات کے عمل کو مزید لٹکاتی رہی تو اس کا نتیجہ دھرنوں میں مزید اضافے کی صورت میں نکلے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف نہیں ملتا، یہ جدوجہد رکنے والی نہیں۔ واضح رہے کہ سکینڈے نیوین نیوز ایجنسی ان بیانات کی اصل ریکارڈنگ یا باضابطہ پریس ریلیز سے تصدیق نہیں کر سکی، لہٰذا انہیں مقامی رپورٹس سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ تیار ہونے تک وفاقی حکومت یا وزارتِ پٹرولیم کی جانب سے جماعت اسلامی کے موقف پر کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔
اہم نکات
- جماعت اسلامی دھرنے کی احتجاجی مہم جمعے کو اپنا 29واں دن مکمل کر گئی
- 35 سے زائد مقامات پر دھرنے اور کیمپ فعال، بڑے اور چھوٹے دونوں شہروں میں
- 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاری جاری
- امیر جماعت اسلامی نے بٹ خیلہ اور تیمرگرہ میں عوامی اجتماعات سے خطاب کیا
- پارٹی کا مؤقف ہے کہ لانگ مارچ کے باوجود دھرنے جاری رہیں گے
- جماعت اسلامی دھرنے
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
یہ احتجاجی تحریک اصل میں کس مسئلے پر ہے؟
یہ پٹرولیم لیوی میں اضافے اور اس سے جڑی عمومی مہنگائی کے خلاف ہے، جسے جماعت اسلامی عام آدمی کی زندگی کے لیے بوجھ قرار دیتی ہے۔
یہ سلسلہ کتنے عرصے سے جاری ہے؟
موجودہ رپورٹ کی تیاری تک یہ تحریک مسلسل انتیس دن تک جاری رہ چکی تھی۔
احتجاج کن شہروں میں ہو رہا ہے؟
کراچی، پشاور اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں کے علاوہ سکھر اور چترال جیسے چھوٹے قصبوں میں بھی، مجموعی طور پر پینتیس سے زائد مقامات پر۔
بیس ستمبر کا لانگ مارچ کیا ہے؟
یہ دارالحکومت اسلام آباد کی جانب ایک بڑے پیمانے کے مارچ کا منصوبہ ہے، جسے جاری دھرنوں کے متوازی منظم کیا جا رہا ہے۔
کیا حکومت کی جانب سے کوئی جواب آیا؟
رپورٹ تیار ہونے تک حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل موجود نہیں تھا؛ پارٹی قیادت مسلسل مذاکرات کی اپیل کر رہی ہے۔
پٹرولیم لیوی پر اختلاف کیوں؟
پٹرولیم لیوی دراصل ایک اضافی ٹیکس ہے جو تیل کی بنیادی قیمت کے اوپر لگایا جاتا ہے، اور حکومتی آمدنی بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی دھرنے اور دیگر ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
اس کے برعکس، ماضی میں حکومتی حلقے یہ دلیل دیتے رہے ہیں کہ بجٹ خسارہ کم کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط پوری کرنے کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں تاہم موجودہ رپورٹ کے لیے حکومت کا کوئی تازہ باضابطہ بیان دستیاب نہیں تھا۔
جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی مخالف تحریک اب ایک ماہ کے قریب پہنچ گئی ہے، اور مقامی رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں درجنوں مقامات پر احتجاج بدستور جاری ہے۔ اسی دوران بیس ستمبر کو دارالحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کا باضابطہ اعلان بھی سامنے آ چکا ہے۔