google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی عدالت کا بڑا فیصلہ

ایس این این نیوز اردو

September 2, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

سندھ طاس معاہدہ اب بھی مکمل طور پر نافذالعمل ہے اور بھارت اسے یک طرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا یہ بات عالمی ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration) کے حالیہ فیصلے میں کہی گئی ہے۔ فیصلے کے متن کے مطابق، بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی کا اعلان نہ تو معاہدے کی شقوں کے تحت اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کے تحت قابلِ جواز تھا۔

پاکستانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق ایک اہم قانونی پیش رفت ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر برسوں سے جاری تنازع کا حصہ ہے۔ دوسری جانب بھارت نے اس ثالثی عمل کی قانونی حیثیت کو ماضی میں چیلنج کیا ہے اور کارروائی میں باضابطہ طور پر شرکت سے گریز کیا، یہ مؤقف اپناتے ہوئے کہ معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کا درست فورم کوئی اور ہے۔

عدالتی فیصلے میں کیا کہا گیا؟

عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کے مطابق بھارت نے اس کیس میں نہ تحریری اور نہ ہی زبانی طور پر اپنا مؤقف پیش کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت پر عائد تمام ذمہ داریاں بدستور برقرار ہیں، اور کسی بھی ایک فریق کو معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

فیصلے میں بھارت کو ہدایت دی گئی کہ وہ متنازعہ پن بجلی منصوبوں پر جاری کام روک دے۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ پابندی متوقع حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک برقرار رہے گی، تاہم اس مدت اور اس کی درست قانونی بنیاد کی آزادانہ تصدیق تاحال دستیاب نہیں ہو سکی۔

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان چھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا طریقہ کار طے کیا گیا۔ یہ معاہدہ دہائیوں سے دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات کے باوجود برقرار رہا ہے، اور اسے خطے میں پانی کے تنازعات پر قابو پانے کی ایک نایاب مثال سمجھا جاتا ہے۔

اہم نکات (Key Facts)

  • عالمی ثالثی عدالت کے مطابق سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذالعمل ہے۔
  • عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کا معاہدہ معطل کرنے کا اعلان معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے تحت جائز نہیں تھا۔
  • بھارت کو متنازعہ پن بجلی منصوبوں پر کام روکنے کی ہدایت دی گئی۔
  • بھارت نے کیس میں تحریری یا زبانی طور پر اپنا مؤقف پیش نہیں کیا۔
  • بھارت اس ثالثی فورم کی قانونی حیثیت کو ماضی میں چیلنج کر چکا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: سندھ طاس معاہدہ کب طے پایا تھا؟
جواب: یہ معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا۔

سوال: عالمی ثالثی عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟
جواب: عدالت کے مطابق معاہدہ نافذالعمل ہے اور بھارت اسے یک طرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔

سوال: کیا بھارت نے اس فیصلے کو تسلیم کیا ہے؟
جواب: بھارت نے اس ثالثی عمل میں باضابطہ شرکت نہیں کی اور ماضی میں اس فورم کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے؛ فیصلے پر باضابطہ بھارتی ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا۔

سوال: پن بجلی منصوبوں پر پابندی کب تک برقرار رہے گی؟
جواب: پاکستانی حکام کے مطابق یہ پابندی متوقع حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک برقرار رہے گی؛ اس کی آزادانہ تصدیق تاحال دستیاب نہیں۔

سوال: کیا یہ فیصلہ حتمی ہے؟
جواب: دستیاب معلومات میں اس فیصلے کی نوعیت (عبوری یا حتمی) کی مکمل وضاحت نہیں دی گئی؛ اضافی تفصیلات کے لیے عدالتی دستاویزات دیکھنا ضروری ہے۔

دونوں ممالک کا ردعمل

پاکستانی حکام نے اس فیصلے کو اپنے مؤقف کی توثیق قرار دیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے اس مخصوص فیصلے پر باضابطہ ردعمل تاحال موجود نہیں، تاہم بھارت پہلے یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے یہ ثالثی فورم مناسب نہیں۔ اس رپورٹ کے حتمی ہونے تک بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازع اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق تازہ ترین صورتحال۔