google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

اسکینڈے نیوین اردو
مقبول موضوعات: # اسکینڈے نیوین نیوز# پاکستان# مریم نواز# انسانی حقوق# لاہور# کراچی# اسلام آباد
بریکنگ نیوز
جیکب آباد میں دن دہاڑے ڈکیتی، دکاندار سے دو لاکھ چھین لیےجیکب آباد: بزرگ کی پراسرار موت، بیٹے کا قتل کا الزامجیکب آباد میں اساتذہ کا احتجاج، گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہراولاکوٹ کشیدگی: طاقت نہیں، مذاکرات کا راستہ اپنائیںشاہ کوٹ: سیم نالے کی صفائی نہ ہونے پر شہریوں کا احتجاجرائے: سیاستدان اور عوام کا بڑھتا فاصلہجیکب آباد کے بنیادی مسائل پر پریس کانفرنس، مطالبات پیشجیکب آباد: چار افراد کے قتل کا مقدمہ، 19 ملزمان نامزد
بلاگ ›

رائے: سیاستدان اور عوام کا بڑھتا فاصلہ

۵ نومبر ۲۰۲۶ · ✍️ ایس این این نیوز اردو · 👁 ۱۱ · ۴ منٹ کا مطالعہ
رائے: سیاستدان اور عوام کا بڑھتا فاصلہبلاگ
واٹس ایپ فیس بک ایکس

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

محمد ضیاء محی الدین
ایس این این نیوز

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب، چھین لے مجھ سے میرا حافظہ۔ یہ مصرع میرے خیال میں ہمارے سیاسی رویوں پر خوب بیٹھتا ہے۔ سیاستدان اور عوام کا رشتہ بدقسمتی سے اکثر ضرورت کا رشتہ دکھائی دیتا ہے۔

سیاستدان اور عوام: ضرورت کا رشتہ

میری رائے میں ہمارے سیاسی منظرنامے کا المیہ یہ ہے کہ بہت سے سیاستدان اقتدار سے باہر ہوں تو عوام یاد آتے ہیں۔ اقتدار میں آتے ہی وہی عام آدمی کے مسائل سے دور ہو جاتے ہیں۔

یہ ایک عمومی تاثر ہے، کسی خاص شخصیت یا جماعت پر الزام نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کب تک عام لوگوں اور بااثر طبقے کے بچوں کے درمیان فرق برقرار رہے گا۔

مصنف کے الفاظ میں، عوام بنیادی سہولتوں کو ترستے ہیں جبکہ ایوانوں میں بیٹھے کئی لوگ اپنے مفادات کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ بیان رائے ہے، کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔

ایوانوں میں عوامی مسائل کی جگہ

میرا خیال ہے کہ اسمبلیوں میں سب سے زیادہ وقت عوامی مسائل پر ہونا چاہیے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اکثر بحث اپنے مفادات کے تحفظ کی طرف چلی جاتی ہے۔

مصنف کے مطابق تعلیم، صحت اور بنیادی ضرورتوں کے نام پر دعوے تو بہت ہوتے ہیں، لیکن زمین پر حالات مختلف ہیں۔ ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے سرکاری اعداد و شمار دیکھنا ضروری ہے، جو اس مضمون میں شامل نہیں۔

صاف پانی، معیاری ہسپتال اور سہولتوں سے لیس اسکول بہت سے لوگوں کے لیے آج بھی خواب ہیں، یہ مصنف کا مشاہدہ ہے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ حکمران طبقہ اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے میں لگا ہے۔

دوسرا نقطۂ نظر

اس رائے سے اختلاف کرنے والے کہہ سکتے ہیں کہ تمام سیاستدانوں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق کئی منتخب نمائندے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کرتے ہیں۔

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وسائل کی کمی اور معاشی دباؤ حکومتوں کے ہاتھ باندھ دیتے ہیں۔ یہ عمومی دلائل ہیں، اور اس مضمون میں کسی نامزد ذریعے سے منسوب نہیں۔

اہم نکات

  • مصنف کے مطابق بہت سے سیاستدان صرف مشکل وقت میں عوام کو یاد کرتے ہیں
  • ان کا کہنا ہے کہ اقتدار میں آ کر عام آدمی کے مسائل نظر انداز ہو جاتے ہیں
  • وہ تعلیم، علاج اور پینے کے صاف پانی کی قلت کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔
  • مصنف یکساں انصاف، تعلیم اور صحت کی ضمانت کا مطالبہ کرتے ہیں
  • یہ مضمون رائے ہے؛ اس میں کوئی نام یا اعداد و شمار شامل نہیں
  • سیاستدان

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

یہ مضمون کس بارے میں ہے؟
سیاستدانوں اور عوام کے بیچ بڑھتی ہوئی دوری پر لکھاری کی اپنی رائے۔

کیا یہ خبر ہے؟
نہیں، یہ ایک کالم ہے اور مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے۔

مصنف کیا مطالبہ کرتے ہیں؟
ہر شہری کے لیے یکساں تعلیم، صحت اور انصاف کی ضمانت۔

کیا اس میں کسی سیاستدان یا جماعت کا نام ہے؟
نہیں۔

کیا دوسرا نقطۂ نظر موجود ہے؟
جی ہاں، مضمون میں عمومی طور پر مختلف رائے بھی بیان کی گئی ہے۔

ایک انسانی نقطۂ نظر

مصنف کا مطالبہ ہے کہ عوام اس دوغلے رویے کو پہچانیں۔ ان کے مطابق جو لوگ صرف مصیبت کے وقت عوام کے پاس آتے ہیں وہ سچے ترجمان نہیں ہو سکتے۔

انہیں ایسے مستقل لائحہ عمل کی ضرورت دکھائی دیتی ہے جو ہر خاص و عام کو تعلیم، صحت اور انصاف کی یکساں ضمانت دے۔ یہ مطالبہ ایک شہری کی خواہش ہے، اور اس پر بحث جاری رہنی چاہیے۔

سیاستدان عوام سے بڑھتے فاصلے کے باعث ان کے مسائل، ضروریات اور توقعات کو سمجھنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، جس سے عوامی اعتماد اور سیاسی نمائندگی کا رشتہ کمزور ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں