جیکب آباد کے بنیادی مسائل پر پریس کانفرنس، مطالبات پیش
۵ نومبر ۲۰۲۶ · ✍️ ایس این این نیوز اردو · 👁 ۱۳ · ۴ منٹ کا مطالعہ
آس پاسعبدالباقی، رپورٹر برائے
ایس این این نیوز
جیکب آباد بنیادی مسائل پر علامہ مقصود احمد ڈومکی کی صدارت میں مرکزی امام بارگاہ میں پریس کانفرنس ہوئی، رپورٹر کے مطابق۔ پریس کانفرنس میں تعلیم، صحت، امن و امان اور ٹرانسپورٹ سمیت کئی مسائل اٹھائے گئے۔
تقریب میں پی ٹی آئی رہنما راجہ خان جکھرانی، ایڈوکیٹ عبد الحئی سومرو اور دیگر بھی شریک تھے۔ یہ دعوے مقررین کے ہیں اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں، جبکہ سندھ حکومت یا متعلقہ محکموں کا مؤقف رپورٹ میں شامل نہیں۔
ضلع کی صورتحال پر مقررین کا مؤقف
علامہ مقصود احمد ڈومکی نے کہا کہ جیکب آباد ایک تاریخی ضلع ہے جس کی آبادی 15 لاکھ ہے۔ ان کے مطابق شہری آج بھی تعلیم، صحت، امن و امان اور ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی، سماجی، مذہبی اور صحافی برادری سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ آبادی کا یہ عدد مقرر کا بیان ہے، سرکاری مردم شماری سے اس کی تصدیق ضروری ہے۔
صحت اور تعلیم پر الزامات
مقرر کے مطابق سول اسپتال کے لیے کروڑوں روپے کا بجٹ ہونے کے باوجود مریضوں کو ادویات نہیں ملتیں۔ انہوں نے ایمرجنسی وارڈ میں سہولتوں کی کمی اور ڈاکٹروں کی اکثر غیر حاضری کا بھی دعویٰ کیا۔
انہوں نے کہا کہ آنکھ، کان اور گلے کا اسپتال غیر فعال ہے، جس کی وجہ سے مرد، خواتین اور بچے علاج سے محروم ہیں۔ تعلیم کے بارے میں انہوں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس کے مطابق متعدد سرکاری اسکول بند ہیں اور اساتذہ کی بڑی تعداد غیر حاضر رہتی ہے۔ اس رپورٹ کا نام نہیں بتایا گیا۔
جیکب آباد بنیادی مسائل: یونیورسٹی، امن و امان اور ٹرانسپورٹ
مقررین نے کہا کہ جیکب آباد قبائلی ضلع ہے اور یہاں یونیورسٹی نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ و طالبات کو تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سرکاری یونیورسٹی کے فوری قیام کا مطالبہ کیا۔
امن و امان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ چوریوں اور ڈکیتیوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے شہر میں سیف سٹی منصوبے کی ضرورت اور پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیا۔ سیف سٹی ایک نگرانی کا نظام ہے جس میں کیمروں سے شہر پر نظر رکھی جاتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہے اور میٹرو بسوں کا آغاز بھی نہیں ہوا۔ ان کے مطابق مہنگائی کے دور میں طلبہ اور غریب شہری نجی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے صفائی ستھرائی اور صاف پینے کے پانی کے لیے بھی فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
اہم نکات
- علامہ مقصود احمد ڈومکی کی صدارت میں جیکب آباد میں پریس کانفرنس ہوئی
- مقررین نے صحت، تعلیم، امن و امان، ٹرانسپورٹ اور صفائی کے مسائل اٹھائے
- سول اسپتال میں ادویات کی کمی اور ڈاکٹروں کی غیر حاضری کے دعوے کیے گئے
- سرکاری یونیورسٹی کے قیام اور سیف سٹی منصوبے کا مطالبہ کیا گیا
- سندھ حکومت کا مؤقف شامل نہیں؛ تمام دعوے غیر تصدیق شدہ ہیں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پریس کانفرنس کس کی صدارت میں ہوئی؟
علامہ مقصود احمد ڈومکی کی صدارت میں، جیکب آباد کی مرکزی امام بارگاہ میں۔
کن مسائل کی نشاندہی کی گئی؟
تعلیم، صحت، امن و امان، ٹرانسپورٹ، صفائی اور پینے کے پانی کے مسائل۔
کیا ضلع میں یونیورسٹی موجود ہے؟
مقررین کے مطابق نہیں، اور انہوں نے سرکاری یونیورسٹی کا مطالبہ کیا۔
مطالبات کس سے کیے گئے؟
متعلقہ افسران، منتخب نمائندوں اور سندھ حکومت سے۔
کیا حکومت نے جواب دیا؟
اس رپورٹ میں حکومت کا کوئی جواب شامل نہیں
مطالبات اور ابھی کیا واضح نہیں
رہنماؤں نے مشترکہ طور پر متعلقہ افسران، منتخب نمائندوں اور سندھ حکومت سے تمام بنیادی مسائل کے فوری حل اور عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی واضح نہیں کہ دعووں کا ماخذ کیا ہے اور آیا ان کی کوئی دستاویزی تصدیق موجود ہے۔ قارئین کو متعلقہ محکموں کے باضابطہ جواب اور سرکاری اعداد و شمار کا انتظار کرنا چاہیے۔ نئی تصدیق شدہ معلومات آنے پر یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
جیکب آباد کے بنیادی مسائل، شہری سہولیات کی کمی اور عوامی مطالبات سے متعلق مزید خبریں پڑھیں

آس پاس
آس پاس
آس پاس
آس پاس