از اسامہ زاہد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے CDA کی جانب سے دائر اس درخواست پر سماعت کی جس میں چونترہ اور میرا بھیری کے متاثرین کے حق میں جاری کردہ عبوری حکم کو ختم کرنے کی استدعا کی گئی تھی، اور معاملہ اصل بنچ کو ریفر کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ 23 جولائی 2026 کا حکم بدستور نافذ العمل رہے گا۔
پس منظر: 23 جولائی کا عبوری حکم
کیس کا آغاز اس وقت ہوا جب جسٹس انعام امین منہاس کے بنچ نے 23 جولائی 2026 کو رٹ پٹیشن (ملک وحید اختر و دیگر کی جانب سے دائر) پر سماعت کرتے ہوئے CDA کو ہدایت دی کہ وہ متاثرین کو معاوضہ ادا کیے جانے تک ان کے خلاف کوئی منفی کارروائی نہ کرے۔ یہ حکم اس نوعیت کا تھا کہ جب تک ادائیگی مکمل نہیں ہوتی، متاثرین کے گھروں کے خلاف کارروائی یا سہولیات منقطع کرنے پر عارضی طور پر روک رہے گی۔
عدالت کا فیصلہ: نوٹس اور بنچ کی تبدیلی
سماعت کے بعد عدالت نے دو اہم احکامات جاری کیے:
- درخواست گزاروں (متاثرین) کو نوٹس جاری کیا جائے۔
- معاملہ اسی بنچ کے سامنے پیش کیا جائے جس نے 23.07.2026 کا اصل عبوری حکم جاری کیا تھا، تاکہ نظرثانی کی استدعا پر مکمل سماعت ہو سکے۔
عدالت نے C.M No. 04/26 کے تحت دائر استثنیٰ کی درخواست کو بھی تمام قانونی استثنیات کے ساتھ منظور کر لیا۔
اہم حقائق
- تاریخِ سماعت: نظرثانی درخواست پر تازہ سماعت؛ اصل عبوری حکم 23 جولائی 2026 کو جاری ہوا۔
- بنیادی رٹ پٹیشن: ملک وحید اختر و دیگر بمقابلہ CDA۔
- نظرثانی کی درخواست: CDA کی جانب سے C.M No. 03/26۔
- عدالتی فیصلہ: معاملہ اصل بنچ (جسٹس انعام امین منہاس) کو ریفر، نوٹس جاری۔
- فوری اثر: 23 جولائی کا حکم بدستور نافذ العمل، CDA فی الحال منفی کارروائی نہیں کر سکتا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ)
سوال: کیا CDA اب متاثرین کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے؟
جواب: نہیں، جب تک اصل بنچ نظرثانی درخواست پر فیصلہ نہیں دیتا، 23 جولائی کا عبوری حکم نافذ العمل رہے گا۔
سوال: نظرثانی درخواست پر حتمی فیصلہ کون کرے گا؟
جواب: وہی بنچ جس نے اصل عبوری حکم جاری کیا تھا، یعنی جسٹس انعام امین منہاس کا بنچ۔
سوال: 23 جولائی کے حکم کا دائرہ کار کیا ہے؟
جواب: یہ حکم CDA کو معاوضے کی ادائیگی مکمل ہونے تک متاثرین کے خلاف کسی بھی منفی کارروائی سے روکتا ہے۔
سوال: اگلی سماعت کب ہوگی؟
جواب: کیس کی آئندہ سماعت اصل بنچ کی دستیابی پر مقرر کی جائے گی، تاریخ فی الحال طے نہیں۔
CDA کی نظرثانی درخواست پر سماعت
CDA نے C.M No. 03/26 کے تحت درخواست دائر کی جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ عدالتی عبوری حکم کے باعث ادارے کی کارروائی رکی ہوئی ہے، لہٰذا اسے ختم کیا جائے۔ درخواست پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے رٹ پٹیشن نمبر 3539/2026 کے تحت سماعت کی۔ متاثرین کی جانب سے ایڈووکیٹ کاشف علی ملک عدالت میں پیش ہوئے۔
جن تفصیلات کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے وہ فراہم کردہ کیس نوٹس پر مبنی ہیں؛ اس مخصوص کیس (رٹ پٹیشن 3539/2026) کی آزادانہ تصدیق کسی عوامی نیوز رپورٹ سے ممکن نہیں ہو سکی، اس لیے تمام تفصیلات درخواست/کیس فائل کے حوالے سے پیش کی جا رہی ہیں۔
ہائی کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ کیس اسٹیٹس اور روسٹر کی تصدیق کے لیے،