(اسامہ زاہد،
بیورو چیف ساوتھ ایشیا،
اسکینڈی نیوین نیوز فن لینڈ)
تحریک لبیک پاکستان کے اعلان کردہ “لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ” سے
صرف دو دن قبل ملک بھر میں وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع
ہوگیا ہے۔ لاہور سمیت مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں کارکنان گرفتار کیے جا رہے ہیں۔
8 اکتوبر کی رات پولیس کی بھاری نفری نے لاہور میں تحریک لبیک
پاکستان کے مرکزی دفتر جامع مسجد رحمت اللعالمین پر کارروائی
کی۔ ترجمان کے مطابق اس دوران شدید اسٹریٹ فائرنگ اور آنسو
گیس کی شیلنگ سے دو کارکنان جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے،
جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ کئی کارکنان کو
موقع سے حراست میں بھی لے لیا گیا۔
ترجمان تحریک لبیک پاکستان کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے ملک گیر
کریک ڈاؤن جاری ہے، ہزاروں کارکنان گرفتار اور سینکڑوں گھروں پر
چھاپے مارے گئے ہیں۔ ان کے مطابق “لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ” 10
اکتوبر کو فیض آباد سے امریکی ایمبیسی اسلام آباد تک نکالا جانا
تھا، جس کا مقصد فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور امریکی و
صہیونی مظالم کے خلاف احتجاج تھا۔
ترجمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنان کو رہا کیا جائے
اور شہداء کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر تمام
تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب، سوشل میڈیا اور شہری حلقوں میں بھی اس کارروائی
کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت
پرامن احتجاج کو روکنے کے بجائے مکالمے کا راستہ اپنائے۔