google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

رنگ گورا کرنے والے انجیکشنز کے نقصانات: کیا یہ پابندی کا شکار ہو رہے ہیں؟

ایس این این نیوز اردو

July 13, 2025

شمائلہ اسلم
اسکینڈے نیوین نیوز ایجنسی
بیورو چیف، پاکستان

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

خواتین اکثر اپنی جلد کو ہلکا، صاف اور چمکدار بنانے کے لیے مختلف طریقے

اپناتی ہیں — گھریلو ٹوٹکوں سے لے کر دوائیں لینے اور ہر ممکن حل آزمانے

تک۔ بہت سی خواتین مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب وائٹننگ انجیکشنز

بھی لگواتی ہیں، جو جلد میں میلانن کی مقدار کو کم کرتے ہیں، جس سے رنگ

ہلکا، گورا اور چمکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ انجیکشنز وقتی طور پر خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں، لیکن ان کے

خطرناک سائیڈ ایفیکٹس بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بیوٹی سیلونز میں استعمال

ہونے والی کریمیں اور انجیکشنز مختلف امراض پھیلانے کا ذریعہ بن رہے

ہیں۔ ماہرین کے انٹرویوز سے معلوم ہوا ہے کہ کئی بیوٹی سیلونز نے خود اپنی

گھریلو وائٹننگ کریمیں تیار کر رکھی ہیں، جو کسی متعلقہ اتھارٹی سے منظور

شدہ نہیں۔ بہت سے سیلون لاکھوں روپے کما رہے ہیں، ایسے انجیکشنز لگا

کر جو پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں اور نہ ہی قانونی طور پر درآمد شدہ ہیں۔

پہلے کی میڈیکل ریسرچ بھی یہ ظاہر کر چکی ہے کہ اگرچہ یہ انجیکشنز جلد کو ہلکا کر

سکتے ہیں، لیکن ان کے انتہائی مضر اور خطرناک اثرات بھی ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کی وارننگ

طبی ماہرین کے مطابق، اگر یہ انجیکشنز کسی ماہر اور رجسٹرڈ ڈاکٹر کی نگرانی میں

اور مناسب غذائیت کے ساتھ دیے جائیں تو نسبتاً محفوظ ہو سکتے ہیں۔ لیکن

اگر کسی غیر ماہر شخص سے لگوائے جائیں تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

وائٹننگ انجیکشنز کے نقصان دہ اثرات

اگر یہ انجیکشنز غیر جراثیم سے پاک آلات سے دیے جائیں تو شدید انفیکشنز

اور کئی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

دمے کے مریضوں کے لیے یہ انجیکشنز خطرناک ہیں کیونکہ یہ سانس کی تنگی یا

دمے کے دورے کو بڑھا سکتے ہیں۔

گردوں کو نقصان پہنچنے کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، اور جو افراد ہفتے میں

تین سے زائد مرتبہ یہ انجیکشن لگواتے ہیں، انہیں پیٹ درد کی شکایت عام ہے۔

کچھ انجیکشنز جن میں مصنوعی گلوتا تھیون شامل ہو، وہ جلد کے کینسر سمیت

دیگر مہلک بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

حساس جلد والے افراد میں ان کے استعمال سے جلد پر سرخی، جلن یا ہلکی

سوجن جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

زیادہ طاقت والے وٹامن سی انجیکشنز جلد کو ہلکا کرنے کے لیے استعمال

کیے جائیں تو وہ جسم کے قدرتی میٹابولزم کو متاثر کر سکتے ہیں۔

زیادہ مقدار میں گلوتا تھیون کے انجیکشنز سے جلد کی خارش، ایپی ڈرمل نیگرو

لائسز، اسٹیون جانسن سنڈروم اور تھائیرائیڈ کی خرابی جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

میلانن کی بار بار خرابی سے جلد سورج کی شعاعوں سے خود کو بچانے کی

صلاحیت کھو بیٹھتی ہے، جس سے جلد کی حساسیت اور کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

حکومتی اقدامات

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حکومت بہت جلد ایسی کریموں اور انجیکشنز کے

خلاف پالیسی لا رہی ہے جو بغیر اجازت بیچے جا رہے ہیں، اور جن سیلونز میں

ان کا استعمال ہو رہا ہے انہیں بند کر دیا جائے گا۔

عوام کے لیے احتیاطی ہدایات

IV گلوتا تھیون ایک ادویاتی دوا ہے، صرف سپلیمنٹ نہیں۔

اس کا غیر مجاز یا ضرورت سے زیادہ استعمال انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

جب یہ غیر تربیت یافتہ افراد کی جانب سے لگایا جائے تو اس کے مضر اثرات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ غیر منظور شدہ گلوتا تھیون مصنوعات سے

پرہیز کریں اور صرف FDA کی منظور شدہ خوراک ہی استعمال کریں۔

صوبائی وزیر صحت کا کہنا ہے کہ لاہور کی مقامی مارکیٹوں میں یہ سستے سیرم

اور کریمیں کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں، جو کہ جلد اور گردوں سمیت کئی

بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔