از اسامہ زاہد
سوشل میڈیا دعوؤں کی تردید، آئی جی پولیس کا واضح مؤقف

آزاد جموں و کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی (AAC) کے اراکین کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
آئی جی پولیس کے مطابق ایسی تمام خبریں بے بنیاد اور غلط ہیں، اور کسی بھی کور یا مرکزی رکن کے خلاف کوئی وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پولیس کے ریکارڈ میں اس طرح کی کسی کارروائی کی تصدیق موجود نہیں ہے، اور عوام کو غلط معلومات پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔
پولیس کی وضاحت اور سرکاری مؤقف

آئی جی پولیس آزاد کشمیر نے اپنے بیان میں کہا کہ:
- عوامی ایکشن کمیٹی کے کسی بھی مرکزی رکن کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے گئے
- سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں غلط اور غیر مصدقہ ہیں
- پولیس نے اس حوالے سے باضابطہ تردید جاری کر دی ہے
- معاملہ واضح ہو چکا ہے اور اب اس پر مزید قیاس آرائی کی ضرورت نہیں
- کشمیر
پولیس حکام نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمیشہ شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کرتے ہیں، نہ کہ افواہوں یا غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر۔
سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے پر تنقید
آئی جی پولیس کشمیر نے سوشل میڈیا صارفین کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد بغیر تحقیق کے معلومات آگے پھیلاتے ہیں، جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ:
- غیر تصدیق شدہ خبریں تیزی سے پھیل جاتی ہیں
- عام صارفین اکثر تحقیق کے بغیر پوسٹس شیئر کرتے ہیں
- اس سے معاشرے میں غیر ضروری الجھن اور بے چینی پیدا ہوتی ہے
- کشمیر
آئی جی کے مطابق کچھ صارفین کم قیمت موبائل فونز پر موصول ہونے والی معلومات کو بغیر تصدیق کے آگے پھیلاتے ہیں، جو صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔
عوام سے احتیاط کی اپیل
پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو شیئر کرنے سے پہلے تصدیق کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ:
- صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کیا جائے
- غیر مصدقہ پوسٹس سے گریز کیا جائے
- افواہوں کو پھیلانے سے معاشرتی مسائل بڑھ سکتے ہیں
- کشمیر
پولیس کے مطابق غلط معلومات نہ صرف اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں بلکہ عوام میں غیر ضروری اضطراب بھی پیدا کرتی ہیں ۔کشمیر
پس منظر اور صورتحال

آزاد کشمیر میں حالیہ عرصے کے دوران سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی اور سماجی معاملات سے متعلق خبریں تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ ان میں سے کئی خبریں بعد میں غلط ثابت ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل دور میں معلومات کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے، لیکن تصدیق کے بغیر خبریں پھیلانا ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے بارہا عوام کو خبردار کرتے رہے ہیں کہ:
- ہر وائرل خبر درست نہیں ہوتی
- سرکاری اعلامیے کو ترجیح دی جائے
- حساس معاملات میں احتیاط برتی جائے
- کشمیر
نتیجہ
آزاد کشمیر پولیس کی اس تازہ وضاحت کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کسی رکن کے خلاف کوئی وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے گئے۔ حکام نے افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے عوام سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
آزاد کشمیر پولیس کی وضاحت: عوامی ایکشن کمیٹی کے وارنٹ گرفتاری کی تردید