google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

پی او جے کے میں 87 شہادتیں تصدیق، اپڈیٹ جاری

ایس این این نیوز اردو

July 31, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از اسامہ زاہد

JKHRO نے 87 تصدیق شدہ شہادتوں کی فہرست جاری کر دی

جموں کشمیر ہیومن رائٹس آبزرویٹری (JKHRO) نے 30 جولائی 2026 کو اپنی دستاویزی فہرست اپڈیٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 5 جون 2026 سے اب تک پاکستان زیرِ انتظام کشمیر (پی او جے کے) میں 87 شہری ہلاکتیں تصدیق ہو چکی ہیں۔ گروپ کے مطابق مجموعی رپورٹ شدہ اموات کی تعداد 91 ہے، جبکہ 4 کیسز تاحال زیرِ تصدیق ہیں۔

یہ اعداد و شمار خود JKHRO کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اور تاحال کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے ان کی مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔

پس منظر: چھ ہفتوں سے جاری کشیدگی

پی او جے کے میں کشیدگی کا آغاز جون کے اوائل میں سیکیورٹی کریک ڈاؤن سے ہوا تھا۔ JKHRO کی ایک سابقہ رپورٹ میں، جو تقریباً چھ ہفتے قبل جاری ہوئی تھی، 34

شہری ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی تھی جبکہ مزید 16 کیسز کی چھان بین جاری بتائی گئی تھی۔ ایک دوسرے میڈیا ادارے نے JKHRO کے حوالے سے صرف 27 ہلاک شدگان کی شناخت کی تصدیق کی رپورٹ دی تھی، جبکہ 4 دیگر ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی تھی۔

ان اعداد میں فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد پر ابھی تک اتفاق نہیں اور صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔

27 جولائی کو صورتحال میں مزید شدت آئی جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی طویل مارچ راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب دوبارہ شروع ہوئی، جو الیکشن کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے ساتھ ہی ہوئی۔

عینی شاہدین کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو راولاکوٹ شہر میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی، اور آن لائن گردش کرنے والی ویڈیوز میں آنسو گیس کا استعمال دکھایا گیا۔ اس واقعے پر حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

JKHRO کا اقوامِ متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ

JKHRO نے اقوامِ متحدہ کے ہیومن رائٹس کمشنر وولکر ترک کو ایک ہنگامی اپیل بھی بھیجی، جس میں کہا گیا کہ ہلاکتیں JAAC کے پرامن لانگ مارچ کے دوران ہوئیں۔ گروپ کے مطابق مارچ میں ایک لاکھ سے زائد شہریوں کی شرکت کا امکان تھا۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ بڑے پیمانے پر عوامی اجتماع، سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی، مبینہ اندھا دھند فائرنگ اور مواصلاتی پابندیوں کا مجموعہ مزید جانی نقصان کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔

اہم نکات

  • JKHRO کا دعویٰ: 5 جون سے 87 تصدیق شدہ شہری شہادتیں، 91 مجموعی رپورٹ شدہ اموات (30 جولائی 2026 تک)
  • 43 نئی شہادتیں تازہ فہرست میں شامل، 4 کیسز زیرِ تصدیق
  • چھ ہفتے قبل JKHRO نے 34 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی — تعداد میں مسلسل اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے
  • 27 جولائی کو JAAC لانگ مارچ کے دوران کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا
  • سرکاری یا آزاد ذریعے سے ان اعداد کی مکمل تصدیق تاحال باقی
  • پی او جے

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

سوال: JKHRO کیا ہے؟
جواب: جموں کشمیر ہیومن رائٹس آبزرویٹری ایک دستاویزی و نگرانی کرنے والا گروپ ہے جو خود کو آزاد اور غیر جانبدار پی او جے قرار دیتا ہے۔

سوال: 87 اور 91 کی تعداد میں فرق کیوں ہے؟
جواب: JKHRO کے مطابق 87 ہلاکتیں مکمل تصدیق شدہ ہیں جبکہ 91 مجموعی رپورٹ شدہ تعداد ہے جس میں غیر تصدیق شدہ کیسز بھی شامل ہیں۔

سوال: کیا حکام نے ان اعداد پر ردعمل دیا؟
جواب: تاحال کوئی باضابطہ سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

سوال: یہ معلومات کہاں سے اکٹھی کی جاتی ہیں؟
جواب: JKHRO کے مطابق فیلڈ رضاکاروں، مقامی صحافیوں اور عینی شاہدین سے۔

سوال: کیا یہ تعداد حتمی ہے؟
جواب: نہیں، JKHRO خود کہتا ہے کہ فہرست میں تصحیح اور اضافے کی گنجائش موجود ہے۔

کیا کہتے ہیں دیگر ذرائع؟

مختلف نیوز اداروں نے اسی عرصے میں مختلف تعداد رپورٹ کی ہے کہیں پی او جے 3 ہلاکتیں ایک مخصوص فائرنگ واقعے میں، کہیں “40 سے زائد” کا تذکرہ۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ یہ اعداد و شمار کسی ایک متفقہ ذریعے سے نہیں بلکہ مختلف اوقات اور مختلف گروپوں کی رپورٹس سے اخذ کیے جا رہے ہیں، اور حتمی، آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تعداد تاحال دستیاب نہیں۔

مزید پڑھیں: پی او جے کے کریک ڈاؤن کی مکمل ٹائم لائین: جون سے جولائی 2026 تک