google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

مظفرآباد: کشمیر اسمبلی سے ٹروتھ کمیشن قرارداد منظور

ایس این این نیوز اردو

August 1, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از اسامہ زاہد

آزاد کشمیر اسمبلی نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں امن کی بحالی، آئین کی بالادستی اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق ایک اہم قرارداد جمعرات 30 جولائی کو منظور کر لی۔ قرارداد پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین نے پیش کی۔

اسمبلی سیکرٹریٹ اور نیوز رپورٹس کے مطابق یہ قرارداد رفح آباد سمیت مختلف علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) سے وابستہ مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد پیش کی گئی۔

اہم نکات کیا ہیں؟

قرارداد میں کشیدگی کے دوران جاں بحق اور زخمی ہونے والے شہریوں اور اہلکاروں کے خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ ایوان نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم تشدد اور بدامنی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس سے قبل مِیرپور سمیت مختلف مقامات پر جھڑپوں میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جن کی حتمی تعداد تاحال آزاد ذرائع سے تصدیق طلب ہے۔

آزاد کشمیر اسمبلی نے کیا مطالبہ کیا؟

قرارداد کا مرکزی نکتہ ایک آزاد، غیر جانبدار اور بااختیار ٹروتھ کمیشن کے قیام کی حمایت ہے۔

نیوز رپورٹس کے مطابق اس تجویز کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 16 جولائی کو پہلی بار پیش کیا تھا، اور 27 جولائی کو انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد دوبارہ اجاگر کیا۔ کمیشن کی توثیق کے فوری بعد احتجاج ختم کرنے اور حکومت کی جانب سے سڑکیں، انٹرنیٹ، موبائل سروس اور روزمرہ کی معاشی سرگرمیاں بحال کرنے پر زور دیا گیا۔

کلیدی حقائق

  • قرارداد 30 جولائی 2026 کو آزاد کشمیر اسمبلی سے منظور ہوئی
  • تجویز پیپلز پارٹی رہنما چوہدری محمد یاسین نے پیش کی
  • ٹروتھ کمیشن کا آئیڈیا اصل میں بلاول بھٹو زرداری نے 16 جولائی کو دیا تھا
  • قرارداد میں سڑکیں، انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی فوری بحالی کا مطالبہ شامل ہے
  • جھڑپیں مِیرپور اور رفح آباد سمیت متعدد علاقوں میں رپورٹ ہوئیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: ٹروتھ کمیشن کیا کرے گا؟
جواب: یہ کمیشن حالیہ بحران کی وجوہات، جانی و مالی نقصان اور تشدد کے واقعات کی غیر جانبدار تحقیقات کرے گا۔

سوال: قرارداد کس نے پیش کی؟
جواب: یہ قرارداد پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین نے پیش کی۔

سوال: کیا قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی؟
جواب: بیشتر رپورٹس کے مطابق قرارداد کو وسیع حمایت حاصل ہوئی، تاہم ایک رپورٹ کے مطابق ایک رکن اسمبلی نے مخالفت کی، جس کی مکمل تصدیق ابھی باقی ہے۔

سوال: احتجاج کب ختم ہوگا؟
جواب: قرارداد کے مطابق کمیشن کی توثیق کے ساتھ ہی احتجاج ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سوال: انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کب بحال ہوں گی؟
جواب: قرارداد میں حکومت سے فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

دونوں فریقین کا مؤقف

بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطہ ویب سائٹ ایکس پر اعلان کیا کہ قرارداد کا مقصد جاری بحران ختم کرنا اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔

تاہم ایک نیوز رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران موجود مسلم لیگ (ن) کے واحد رکن اسمبلی نے قرارداد کی حمایت نہیں کی اور کورم کی نشاندہی کے ذریعے کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، اگرچہ اس دعوے کی مکمل تفصیلات آزاد ذرائع سے مزید تصدیق طلب ہیں۔ اسمبلی کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا کہ قرارداد کا کوئی حصہ کسی فرد یا ادارے کے خلاف الزام یا فیصلہ تصور نہ کیا جائے۔

بلال احمد، سیاسی امور نامہ نگار برائے سکینڈے نیوین نیوز ایجنسی مظفرآباد، پاکستان