از اسامہ زاہد
پشاور ہائیکورٹ نے قائداعظم نادرا کارڈ بلاک کیس میں درخواست گزار کو نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہو کر اپنی دستاویزات کی تصدیق کرانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس وقار احمد خان اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی جو قائداعظم نامی شہری کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل سیف اللہ محب کاکاخیل ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل ایک تاجر ہے جس کا پاکستان اور دبئی میں کاروبار ہے۔ وکیل کے مطابق نادرا کی جانب سے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے کارڈ بلاک کیے جانے سے موکل کے کاروباری، روزمرہ اور سفری معاملات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
نادرا کا مؤقف کیا تھا؟
سماعت کے دوران نادرا کی جانب سے ڈائریکٹر لیگل شاہد عمران گگیانی عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے نے اس ضمن میں جواب جمع کرا دیا ہے، اور درخواست گزار کا شناختی کارڈ اور فراہم کردہ دستاویزات مشکوک زمرے میں آنے کے باعث بلاک کیا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ موکل کو کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے چچا کو ساتھ لے کر آئیں، جبکہ موکل باقاعدگی سے حکومت کو ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ وکیل کے بقول یہ کارروائی ہراساں کیے جانے کے مترادف ہے، کیونکہ درخواست گزار کے خاندان کے باقی افراد کے پاس پہلے سے پاکستانی شناختی کارڈز موجود ہیں۔
عدالت کا فیصلہ
دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے قائداعظم کو ہدایت کی کہ وہ نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہو کر اپنی دستاویزات کی تصدیق کرائیں۔ عدالت نے معاملہ نادرا کے متعلقہ فورم پر حل کرنے کی راہ ہموار کرتے ہوئے قانونی طریقہ کار کے تحت پیش رفت کی ہدایت دی۔
اہم حقائق
- پشاور ہائیکورٹ کی دو رکنی بینچ (جسٹس وقار احمد خان، جسٹس انعام اللہ خان) نے کیس کی سماعت کی
- درخواست گزار قائداعظم پاکستان اور دبئی میں کاروبار کرنے والا تاجر ہے
- نادرا نے دستاویزات “مشکوک” قرار دے کر کارڈ بلاک کیا
- عدالت نے درخواست گزار کو نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی
- درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف: کارڈ بلاک ہونے سے کاروباری اور سفری معاملات متاثر
- قائداعظم
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ)
یہ کیس کس عدالت میں زیرِ سماعت ہے؟
یہ کیس پشاور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
نادرا نے کارڈ کیوں بلاک کیا؟
نادرا کے ڈائریکٹر لیگل کے مطابق شناختی کارڈ اور فراہم کردہ دستاویزات مشکوک زمرے میں آنے کے باعث بلاک کیا گیا۔
عدالت نے کیا حکم دیا؟
عدالت نے درخواست گزار کو نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہو کر دستاویزات کی تصدیق کرانے کی ہدایت دی۔
. درخواست گزار کا مؤقف کیا ہے؟
وکیل کے مطابق موکل ٹیکس ادا کرنے والا پاکستانی شہری اور تاجر ہے، اور بلا جواز ہراساں کیا جا رہا ہے۔
. کیا یہ کیس ابھی حل ہو چکا ہے؟
نہیں، معاملہ اب نادرا بورڈ کے سامنے زیرِ التوا ہے جہاں دستاویزات کی تصدیق ہوگی۔
قائداعظم نادرا کارڈ بلاک کیس کی اہمیت
یہ کیس ان متعدد شکایات میں شامل ہے جہاں شہریوں نے نادرا پر بلا جواز شناختی کارڈ بلاک کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسے کیسز میں عدالتی مداخلت شہریوں کو ریلیف دلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ نادرا کی جانچ پڑتال کے نتیجے پر منحصر ہوگا۔
نادرا کارڈ بلاک ہونے کی وجوہات اور اپیل کا طریقہ کار