google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

چونترہ بے دخلی رکی: IHC کا CDA کو بڑا حکم

ایس این این نیوز اردو

July 26, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از اسامہ زاہد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چونترہ بے دخلی کے معاملے پر وفاقی دارالحکومت کے دو دیہات، چونترہ اور مائرہ بیری، کے مکینوں کو بڑا ریلیف دے دیا۔ عدالت نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کو ہدایت کی کہ جب تک متاثرین کو معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا، ان کے خلاف کوئی منفی کارروائی نہ کی جائے۔

چونترہ بے دخلی کیس کا پس منظر

جسٹس انعام امین منہاس نے ملک وحید اختر اور دیگر کی رٹ پٹیشن نمبر 3539/2026 کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کے وکیل، حافظ علی اصغر ایڈووکیٹ کے مطابق، ان کے موکلین کی تعمیر شدہ جائیدادیں 1969 میں ایوارڈز کے تحت ڈیفنس کمپلیکس کے لیے حاصل کی گئی تھیں۔

وکیل کے بیان کے مطابق، سری سرال، ڈھوک پڑی، بھیکر اکو، بھیکر فتح بخش، ڈارک مہری اور سیکٹرز E-10، E-11 اور E-12 کے متاثرین کو پہلے ہی پلاٹ اور معاوضہ الاٹ کیا جا چکا ہے، جبکہ چونترہ اور مائرہ بیری کے رہائشیوں کو، درخواست گزاروں کے بقول، 55 سال گزرنے کے باوجود نظرانداز کیا گیا۔

معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کا الزام

درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 2023 میں CDA اور ڈیفنس کمپلیکس کے سروے، اور وزیراعظم کی ہدایت پر 9 فروری 2023 کو ہونے والے بین الوزارتی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں متاثرین کی پلاٹ اور معاوضے کے ذریعے بحالی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

ان کے بقول 2025 میں تصدیق کا عمل بھی مکمل ہوا، لیکن CDA نے وعدے کے برعکس گھر گرانا شروع کر دیے اور بجلی و گیس جیسی بنیادی سہولیات منقطع کر دیں۔ ان دعووں پر CDA کا موقف تاحال ریکارڈ پر نہیں آیا۔

عدالت کے اہم احکامات

عدالت نے کیس کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے CDA اور دیگر فریقین کو دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔ درخواست گزاروں کی استدعا پر فوری ریلیف دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ معاوضے کی ادائیگی تک درخواست گزاروں کے خلاف کوئی منفی کارروائی نہ کی جائے۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق فریقین کا مبینہ عمل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، 18، 25 اور جنرل کلاذز ایکٹ 1897 کی دفعہ 24-A کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

اہم نکات

  • جسٹس انعام امین منہاس نے رٹ پٹیشن نمبر 3539/2026 کی سماعت کی
  • CDA کو معاوضے تک کوئی کارروائی نہ کرنے کا حکم
  • 1969 میں ڈیفنس کمپلیکس کے لیے زمین حاصل کی گئی تھی
  • CDA کو 2 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت
  • اگلی سماعت دو ہفتے بعد
  • چونترہ

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ)

سوال: عدالت نے کیا حکم دیا؟
جواب: عدالت نے CDA کو ہدایت دی کہ معاوضے کی ادائیگی تک درخواست گزاروں کے خلاف کوئی منفی کارروائی نہ کی جائے۔

سوال: یہ کیس کس عدالت میں زیرِ سماعت ہے؟
جواب: اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس انعام امین منہاس کی عدالت میں۔

سوال: زمین کب حاصل کی گئی تھی؟
جواب: درخواست کے مطابق 1969 میں ایوارڈز کے تحت ڈیفنس کمپلیکس کے لیے۔

سوال: اگلی سماعت کب ہوگی؟
جواب: موجودہ حکم کے دو ہفتے بعد۔

سوال: کیا CDA نے الزامات کا جواب دیا؟
جواب: تاحال CDA کا باضابطہ موقف ریکارڈ پر نہیں آیا؛ عدالت نے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔

کیس کی اہمیت

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عدالتی حکم کی بنیاد پر اسلام آباد کے دیگر علاقوں کے وہ رہائشی بھی رجوع کر سکتے ہیں جن کی زمینیں 1960 کی دہائی میں حاصل کی گئی تھیں، کیونکہ یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مقدمات کے لیے حوالہ بن سکتا ہے۔ چونترہ کیس کی سماعت اب دو ہفتوں بعد دوبارہ ہوگی۔


کی دہائی میں زمین حاصل کیے جانے والے دیگر متاثرین