از اسامہ زاہد
واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے سول جوہری تعاون کے معاہدے کو باضابطہ منظوری دینے کے ایک دن بعد ہی اس میں نئی شرط شامل کر دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ ابراہم اکارڈز میں شامل ہو۔
معاہدہ کیسے سامنے آیا
امریکی محکمہ توانائی کے واشنگٹن ہیڈکوارٹر میں ایک تقریب میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدے پر دستخط ہوئے، جس میں امریکی توانائی سیکرٹری کرس رائٹ اور سعودی حکام شریک تھے۔ تاہم دستخط کے چند گھنٹوں بعد ہی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے معاہدے کو نئی شرط سے مشروط کر دیا۔
نئی شرط: ابراہم اکارڈز میں شمولیت لازمی
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری تعاون کا معاہدہ مکمل طور پر اس بات سے مشروط ہے کہ ریاض اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے اور ابراہم اکارڈز کا حصہ بنے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی اس مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر سعودی عرب ابراہم اکارڈز میں شامل نہ ہوا تو معاہدہ ختم تصور ہوگا۔
سعودی عرب کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خیال رہے کہ سعودی عرب طویل عرصے سے یہ مؤقف اپناتا رہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے واضح راستے کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائے گا۔
یورینیم افزودگی اور جوہری پروگرام کا دائرہ کار
معاہدے کی تفصیلات ابھی مکمل طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ سعودی عرب کو ملکی سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دے سکتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ جوہری ایندھن درآمد کرے، جو کہ امریکہ کی روایتی جوہری پالیسی سے ایک بڑا انحراف ہوگا۔
کانگریس اور ماہرین کے خدشات
امریکی سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ انہیں اب بھی تشویش ہے کہ آیا دستخط شدہ معاہدہ یورینیم کی ری پروسیسنگ اور افزودگی کو روکتا ہے یا نہیں، اور کیا یہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو معائنے کی اجازت دیتا ہے جیسا کہ دیگر معاہدوں میں ہوتا ہے۔ ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ سویلین جوہری افزودگی بعض اوقات خفیہ عسکری صلاحیت کے حصول کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اسرائیل کا ردعمل
دفتر وزیراعظم اسرائیل بن یامین نیتن یاہو کی جانب سے ٹرمپ کے اس بیان پر مثبت ردعمل سامنے آیا، جس میں کہا گیا کہ اگر سعودی عرب ابراہم اکارڈز کا حصہ بنتا ہے تو یہ خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم اور تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔
معاہدے کا مستقبل غیر یقینی
فی الحال یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کے تازہ بیان کا دستخط شدہ معاہدے پر کیا اثر پڑے گا، اور آیا یہ باضابطہ طور پر معطل کیا جا چکا ہے یا نہیں۔ معاہدے کو حتمی نفاذ کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری بھی درکار ہوگی۔
سعودی-اسرائیل تعلقات کی بحالی