google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

پاکستان کی امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالیاتی سہولت کی درخواست

ایس این این نیوز اردو

July 23, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از اسامہ زاہد

اسلام آباد/واشنگٹن پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر مالیت کی ایک مالیاتی سہولت کی باضابطہ درخواست کی ہے، جس کا مقصد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانا اور روپے پر دباؤ کم کرنا ہے۔ یہ انکشاف رائٹرز کی ایک رپورٹ میں معاملے سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے کیا گیا۔

پاکستان کیا مانگ رہا ہے؟

اسلام آباد نے امریکی محکمہ خزانہ سے ایک “بائی لیٹرل ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فسیلٹی” 10 ارب ڈالرطلب کی ہے، جس کی معیاد پانچ سال تک ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کا مقصد پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو تقویت دینا، روپے کی قدر پر دباؤ کم کرنا اور کثیر الطرفہ (ملٹی لیٹرل) قرض دہندگان پر انحصار کم کرنا ہے۔

یہ درخواست امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو دی گئی بتائی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسی مالیاتی سہولتیں امریکی محکمہ خزانہ کے “ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ” کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں اور یہ فیڈرل ریزرو کے دیگر بڑے مرکزی بینکوں کے ساتھ مستقل ڈالر سویپ معاہدوں سے مختلف ہوتی ہیں۔

ایران جنگ میں پاکستان کے کردار سے تعلق

یہ درخواست ایران جنگ سے متعلق مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا اور یہ توقعات پیدا ہوئیں کہ پاکستان واشنگٹن اور دیگر شراکت داروں سے معاشی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

تاہم امریکا یا پاکستان 10 ارب ڈالرکی جانب سے سرکاری طور پر ان دونوں پیش رفتوں کو باہم منسلک قرار نہیں دیا گیا۔

وزیر خزانہ کی واشنگٹن میں ملاقات

رپورٹس کے مطابق 10 ارب ڈالردرخواست پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اسکاٹ بیسنٹ کے درمیان منگل کو واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی۔ اس ملاقات میں اورنگزیب نے علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے پیدا ہونے والی معاشی کمزوریوں پر گفتگو کی۔

پاکستان کی وزارت خزانہ کے مطابق، اورنگزیب نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کو بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے، زرمبادلہ ذخائر بڑھانے اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ مضبوط کرنے میں مزید تعاون فراہم کرے۔ دونوں فریقین نے دو طرفہ معاشی تعاون بڑھانے اور امریکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر بھی اتفاق کیا۔

آئی ایم ایف پروگرام اور موجودہ معاشی صورتحال

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت سخت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور مانیٹری پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ ملک نے 2023 میں 3 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف اسٹینڈ بائے معاہدے کی بدولت ڈیفالٹ سے بچت کی تھی۔

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر اب بھی چین اور سعودی عرب کی جانب سے سرکاری فنانسنگ، رول اوورز اور ڈپازٹس پر انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث ملک دو طرفہ تعاون میں تبدیلیوں اور آئی ایم ایف کی ادائیگیوں میں تاخیر جیسے خطرات سے دوچار رہتا ہے۔ اپریل میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر — یعنی اپنے ذخائر کا پانچواں حصہ — واپس کیا تھا، جس پر سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کی نئی معاونت فراہم کی۔

سرکاری ردعمل تاحال موصول نہیں

امریکی محکمہ خزانہ نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ پاکستان کی وزارت خزانہ کی جانب سے رائٹرز کی درخواست پر ایشیائی اوقاتِ کار سے باہر کوئی فوری جواب موصول نہیں ہوا۔