از اسامہ زاہد
اسلام آباد/کراچی آل پاکستان پٹرول پمپس ایسوسی ایشن نے 23 جولائی کی رات 12 بجے سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، جس سے حکومت اور پٹرولیم ڈیلرز کے درمیان قیمتوں کے تعین کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ڈیلرز کا کمیشن اور ماہانہ بنیاد پر قیمتوں کا مطالبہ
ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کمیشن اور ماہانہ بنیاد پر مقرر ہونی چاہئیں، نہ کہ موجودہ نظام کے تحت۔ ان کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں تبدیلی نے ڈیلرز کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جسے انہوں نے غیر یقینی اور غیر منطقی قرار دیا۔
کراچی میں اجلاس، ہڑتال میں شمولیت کا فیصلہ متوقع
پاکستان پٹرول پمپس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین راجہ وسیم کیانی کے مطابق ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آج دن 11:30 بجے کراچی میں منعقد ہوا، جس میں یہ فیصلہ کیا جانا تھا کہ پٹرولیم ڈیلرز اعلان کردہ ہڑتال میں شامل ہوں گے یا نہیں۔
قیمتوں کے تعین میں شفافیت پر حکومتی مؤقف
دوسری جانب پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق حکومت شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کر رہی ہے۔ ذرائع نے الزام عائد کیا کہ ایسوسی ایشن کے عہدیدار “میں نہ مانوں” کی پالیسی اپنائے ہوئے تھے، اور پٹرول پمپ مالکان نے بغیر کسی ٹھوس جواز کے اپنی بات منوانے کی کوشش کی۔
حکومت کا مذاکرات کے لیے دروازے کھلے رکھنے کا اعلان
پٹرول پمپس ڈویژن کے مطابق حکومت پٹرول پمپس مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی تاکہ عوام کو کسی قسم کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ وزارت پٹرولیم اسٹیک ہولڈرز کی جائز تجاویز سننے کے لیے تیار ہے اور مذاکرات کا راستہ کھلا ہے۔
کراچی میں پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس