google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ برقرار، عوام کی مشکلات میں اضافہ

ایس این این نیوز اردو

July 23, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

حماد کاہلوں
ایس این این نیوز

اسلام آباد پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کے مطابق جون 2026 میں ملک کی مجموعی افراطِ زر کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو مئی 2026 میں 11.7 فیصد اور جون 2025 میں 3.2 فیصد تھی۔

قیمتوں میں اضافے کی وجوہات

اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے منسلک ادارے عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق، سالانہ بنیاد پر افراطِ زر میں اضافہ بڑی حد تک توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ہوا، جو عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافے سے جڑا ہے۔

مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی افراطِ زر 7.05 فیصد رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 4.49 فیصد تھی۔

شہری اور دیہی علاقوں پر اثرات

شہری علاقوں میں افراطِ زر جون 2026 میں سالانہ بنیاد پر 11.2 فیصد رہی، جو مئی میں 11.8 فیصد اور جون 2025 میں محض 3.0 فیصد تھی۔

دیہی علاقے بھی متاثر ہوئے، جہاں قیمتوں میں 10.9 فیصد سالانہ اضافہ دیکھا گیا، جو گزشتہ ماہ 11.5 فیصد اور جون 2025 میں 3.6 فیصد تھا۔

سب سے زیادہ مشکلات اثر کم آمدنی والے طبقے پر پڑا: حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI)، جو کم ترین آمدنی والے طبقے کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں کو ماپتا ہے، میں سالانہ بنیاد پر 12.8 فیصد اضافہ ہوا۔

مرکزی بینک کا مؤقف

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے گزشتہ ماہ پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ آئندہ چند ماہ تک افراطِ زر دوہرے ہندسوں میں رہنے کے بعد بتدریج کم ہونا شروع ہوگی۔

عوامی مشکلات

معاشی دباؤ مشکلات کے اس ماحول میں، عام شہریوں خصوصاً کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

متعدد شہریوں نے بڑھتی قیمتوں کے باعث اپنے گھریلو بجٹ پر دباؤمشکلات کی شکایت کی ہے، تاہم اس حوالے سے مصدقہ سروے یا باضابطہ سماجی اعداد و شمار تاحال دستیاب نہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی عمارت، مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس