google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

قصور: عطائی نے ختنہ کے دوران بچے کا عضو کاٹ دیا

ایس این این نیوز اردو

June 17, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از اسامہ زاہد

قصور، پاکستان پنجاب کے ضلع قصور میں طبی غفلت کا ایک انتہائی لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک مبینہ عطائی ڈاکٹر نے ختنہ کے روایتی طریقہ کار کے دوران مبینہ طور پر ایک معصوم بچے کا آدھا عضو کاٹ دیا۔ اس واقعے نے مقامی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے اور غیر قانونی کلینکس کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات تیز کر دیے ہیں۔

عطائیت کے باعث معصوم بچہ شدید زخمی

مقامی ذرائع کے مطابق، متاثرہ خاندان اپنے کمسن بچے کو ختنہ کے لیے قصور میں قائم ایک مقامی کلینک لے کر گیا تھا۔ مینوئل سرجری کے دوران، کلینک چلانے والے مبینہ عطائی نے شدید غفلت کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں بچے کا عضو شدید متاثر ہوا۔

بچے کے والد نے اس المیے پر اپنے گہرے ذہنی کرب کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ بچہ ان کی اکلوتی اولاد ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے شادی کے 7 سال بعد اس نعمت سے نوازا تھا۔

چلڈرن ہسپتال لاہور منتقلی اور نازک صورتحال

واقعے کے فوری بعد خون بہنے اور حالت بگڑنے پر بچے کو قصور سے فوری طور پر لاہور کے چلڈرن ہسپتال منتقل کیا گیا۔ جہاں ایمرجنسی وارڈ میں اسے طبی امداد فراہم کی گئی۔

ہسپتال کے ماہر اطفال اور سرجنز نے معصوم بچے کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ زخم انتہائی گہرا اور نقصان وسیع ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچے کی زندگی بچانے کے لیے متاثرہ عضو کو مکمل طور پر کاٹنا پڑے گا، جس کا مشورہ انہوں نے غمزدہ خاندان کو دے دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب اور ہیلتھ کیئر کمیشن سے نوٹس کا مطالبہ

اس دردناک واقعے کے بعد متاثرہ خاندان شدید صدمے اور ذہنی اذیت سے گزر رہا ہے۔ واقعے کی خبر پھیلتے ہی شہریوں اور سول سوسائٹی نے صوبائی حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

شہریوں نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (PHC)، وزیر اعلیٰ پنجاب، اور ڈی پی او (DPO) قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں۔ عوام کی جانب سے غیر قانونی کلینک کو سیل کرنے، مفرور عطائی کو گرفتار کرنے اور خطے میں عطائیت کے خاتمے کے لیے گرینڈ آپریشن شروع کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

“یہ واقعہ ضلع قصور کے مقامی کلینک میں پیش آیا۔”