google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

ٹرمپ کا بیان: بیروت پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم امن ڈیل کے قریب ہیں

ایس این این نیوز اردو

June 15, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از اسما زاہد

ٹرمپ کا اسرائیلی حملے پر کھلا اعتراض

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بیروت پر آج کا اسرائیلی حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب خطے میں جاری سفارتی کوششیں ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

‘ہم امن ڈیل کے بہت قریب ہیں’

ٹرمپ نے واضح کیا کہ لبنان سمیت پورے خطے میں امن ممکن ہے اور امریکہ ایک جامع ڈیل کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے تمام فریقین سے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تاکہ مذاکرات کا عمل متاثر نہ ہو۔

لبنان پر مزید حملے نہ ہوں امریکی صدر

صدر ٹرمپ نے صراحت کے ساتھ کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے مزید فوجی حملے نہیں ہونے چاہییں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بیروت پر بمباری سے خطے میں جاری امن مذاکرات شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

چھوٹے تنازعات پر بڑی سفارتکاری ضائع نہ کی جائے

ٹرمپ نے زور دیا کہ معمولی اور ثانوی تنازعات کی وجہ سے بڑی سفارتی کوششوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے۔

ان کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ واشنگٹن اس وقت خطے میں ایک وسیع تر امن فریم ورک پر سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔

حزب اللہ اور اسرائیل فوری جنگ بندی کریں

امریکی صدر نے حزب اللہ اور اسرائیل دونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک دوسرے پر حملے فوری طور پر بند کریں۔

یہ مطالبہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ عام طور پر اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتی رہی ہے۔

امن مذاکرات کو خطرہ — ٹرمپ کا انتباہ

ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ بیروت پر جاری بمباری خطے میں چل رہے امن مذاکرات کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے۔

یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے بیروت کہ امریکہ اس وقت کسی بڑی سفارتی پیش رفت کے دہانے پر کھڑا ہے جسے وہ ضائع نہیں کرنا چاہتا۔

ٹرمپ انتظامیہ اور مشرق وسطیٰ پالیسی: مکمل جائزہ